المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. التَّشْدِيدُ فِي كَشْفِ الْعَوْرَةِ
ستر (عورت) کھولنے پر سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 7545
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن هشام بن مَلَّاس النُّمَيريّ، حدّثنا مروان بن معاوية الفَزَاري. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدّثنا الحسن بن مُكرَم، حدّثنا يزيد بن هارون؛ قالا: حدّثنا بَهْز بن حَكيم، عن أبيه، عن جدِّه قال: قلتُ: يا رسولَ الله، عوراتُنا ما نأتي منها، وما نَذَرُ؟ قال:"احفَظ عورتَك إلَّا من زوجتِك، أو ما مَلَكَت يمينُك" قلت: أرأيتَ إنْ كان قومٌ بعضُهم فوق بعض؟ قال:"إن استطعتَ أن لا يراها أحدٌ، فلا يَرَيَنَّها" قلت: أرأيتَ إنْ كان أحدُنا خاليًا؟ قال:"فالله أحقُّ أن يُستحيَى منه" ووضع يدَه على فَرْجِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7358 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7358 - صحيح
بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کس سے پردہ کریں اور کس سے نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ستر کی حفاظت کر، سوائے اپنی بیوی کے اور اپنی لونڈی کے۔ میں نے کہا: اگر کچھ لوگ اوپر کے مقام پر اور دوسرے لوگ نیچے کے مقام پر رہتے ہوں، تو پردے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس حد تک ممکن ہو، ان پر نظر پڑنے سے خود کو بچاؤ اور عورتیں بھی نہ دیکھیں۔ میں نے کہا: اگر انسان خالی جگہ پر ہو جہاں اس کو کوئی بھی دیکھنے والا نہ ہو، تو ستر کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ تو اس کو دیکھ رہا ہے) اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ اس سے حیاء کیا جائے۔ (کچھ اور نہیں تو کم از کم) اپنی شرمگاہ پر ہاتھ ہی رکھ لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7545]