المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. مَنْ كَسَا فَقِيرًا لِلَّهِ كَانَ فِي جِوَارِ اللَّهِ تَعَالَى
جس نے اللہ کی رضا کے لیے کسی مسکین مسلمان کو لباس پہنایا، وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہے
حدیث نمبر: 7598
أخبرني الحسن بن حَليم (2) المروزَي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان أخبرنا عبد الله، أخبرنا يحيى بن أيوب، أنَّ عُبيد الله بن زَحْر حدَّثه عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أُمامة: أنَّ عمر بن الخطّاب دعا بقَميصٍ له جديد فلَبِسَه، فلا أحسَبُ بَلَغَ تَراقِيه حتى قال: الحمدُ لله الذي كَسَاني ما أُواري به عَوْرتي، وأتجمَّلُ به في حياتي، ثم قال: أتدرون لِمَ قلت هذا؟ رأيتُ رسول الله ﷺ دعا بثيابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَها، قال: أحسَبُها بَلَغَت تَراقِيَه حتى قال مثلَ ما قلتُ، ثم قال:"والذي نفسي بيدِه، ما من عبدٍ مُسلمٍ لَبِسَ ثوبًا جديدًا ثم يقول مثلَ ما قلتُ، ثم يَعْمِدُ إِلى سَمَلٍ من أَخلاقِه الذي وَضَعَ فيَكسُوه إنسانًا مسكينًا مسلمًا فقيرًا، لا يكسوه إلَّا الله ﷿، إلَّا كان في جوار الله وفي ضَمانِ الله ما دام عليه منها سِلكٌ واحدٌ حيًا وميتًا (3) .
هذا حديث لم يحتج الشيخان بإسناده، ولم أذكُرْ أيضًا في هذا الكتاب مثلَ هذا، على أنه حديثٌ تفرَّد به إمام أهل خُراسان عبد الله بن المبارك (1) عن أئمّة أهلِ الشام ﵃ أجمعين، فآثرتُ إخراجه ليرغبَ المسلمون في استعماله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7410 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث لم يحتج الشيخان بإسناده، ولم أذكُرْ أيضًا في هذا الكتاب مثلَ هذا، على أنه حديثٌ تفرَّد به إمام أهل خُراسان عبد الله بن المبارك (1) عن أئمّة أهلِ الشام ﵃ أجمعين، فآثرتُ إخراجه ليرغبَ المسلمون في استعماله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7410 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک نیا کرتہ منگوایا اور اسے پہنا، میرا نہیں خیال کہ وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچا ہوگا کہ انہوں نے یہ دعا پڑھی: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے وہ لباس پہنایا جس سے میں اپنا ستر چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے زینت حاصل کرتا ہوں“، پھر انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو میں نے یہ کیوں کہا؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے کپڑے منگوائے اور انہیں پہنا، میرا خیال ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسلی تک پہنچے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ویسے ہی فرمایا جیسے میں نے کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جو بھی مسلمان بندہ نیا کپڑا پہنے، پھر وہی کہے جو میں نے کہا، پھر وہ اپنے پرانے کپڑوں میں سے کسی «سَمَلٍ» (پھٹے پرانے یا استعمال شدہ کپڑے) کا ارادہ کرے اور وہ کسی غریب و فقیر مسلمان کو پہنا دے، تو وہ مرتے دم تک اور موت کے بعد بھی اللہ کی پناہ اور اللہ کی ضمانت میں رہے گا جب تک اس کپڑے کا ایک دھاگا بھی اس (فقیر) کے بدن پر رہے گا۔“
یہ ایسی حدیث ہے جس کی اسناد سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا، اور میں نے اس کتاب میں اس جیسی حدیث ذکر بھی نہیں کی، سوائے اس کے کہ اس حدیث کو امامِ اہل خُراسان عبداللہ بن مبارک نے تمام ائمہ اہل شام سے روایت کرنے میں تفرد حاصل کیا ہے، چنانچہ میں نے اسے روایت کرنے کو ترجیح دی تاکہ مسلمان اسے استعمال کرنے کی رغبت پیدا کریں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7598]
یہ ایسی حدیث ہے جس کی اسناد سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا، اور میں نے اس کتاب میں اس جیسی حدیث ذکر بھی نہیں کی، سوائے اس کے کہ اس حدیث کو امامِ اہل خُراسان عبداللہ بن مبارک نے تمام ائمہ اہل شام سے روایت کرنے میں تفرد حاصل کیا ہے، چنانچہ میں نے اسے روایت کرنے کو ترجیح دی تاکہ مسلمان اسے استعمال کرنے کی رغبت پیدا کریں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7598]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، من أجل عبيد الله بن زحر وعلي بن يزيد الألهاني، وقال الدارقطني في "العلل" (2697): إسناده غير ثابت يحيى بن أيوب: هو الغافقي المصري» [ترقيم الرساله 7598] [ترقيم الشركة 7506] [ترقيم العلميه 7410]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا