المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. كَلَامُ النَّبَاتِ مَعَ سُلَيْمَانَ لِأَيِّ شَيْءٍ طَلَعْتِ
سیدنا سلیمان علیہ السلام کے ساتھ پودوں کا کلام کہ وہ کس مقصد کے لیے اگے ہیں
حدیث نمبر: 7616
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا يحيى بن سليمان الجُعْفي، حدثني ابن وهب، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ قال:"كان سليمان بن داود ﵇ إذا قام في رمضانَ، رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فقال: ما اسمُكِ؟ فتقول: كذا، فيقول: لأيِّ شيء أنتِ؟ فتقول: لكذا، فإن كانت لدواءٍ كُتِبَ، وإن كانت لغَرْسِ غُرِسَت، فبينما هو يُصلِّي ذاتَ يوم إذا شجرةٌ نابتةٌ بين يديه، فقال لها: ما اسمُكِ؟ قالت: الخُرْنُوب، قال: لأيِّ شيء أنتِ؟ قالت: لِخَراب أهلِ هذا البيت، فقال سليمان: اللهمَّ عَمَّ على الجنِّ موتي، حتى تعلم الإنسُ أنَّ الجنَّ لا تعلمُ الغيبَ. قال: فنَحَتَها عصًا، فتوكَّأ عليها حَوْلًا مَيْتًا والجنُّ تعمل، فلمَّا خَرَّ تبيَّنت الإنسُ أَنَّ الجنَّ لا يعلمون الغيبَ، قال: فشَكَرتِ الجِنُّ الأرضَةَ فكانت تأتيها الماءَ". وكان ابن عباس يقرؤُها هكذا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهو غريب بمرَّة من رواية عبد الله (1) بن وهب عن إبراهيم بن طَهْمان، فإني لم أجدْ عنه غير رواية هذا الحديث الواحد. وقد رواه سَلَمة بن كُهيل عن سعيد بن جبير، فأوقفَه على ابن عباس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7428 - صحيح غريب بمرة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهو غريب بمرَّة من رواية عبد الله (1) بن وهب عن إبراهيم بن طَهْمان، فإني لم أجدْ عنه غير رواية هذا الحديث الواحد. وقد رواه سَلَمة بن كُهيل عن سعيد بن جبير، فأوقفَه على ابن عباس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7428 - صحيح غريب بمرة
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سیدنا سلیمان علیہ السلام رمضان میں قیام کرتے، تو اپنے سامنے کوئی درخت اگتا ہوا دیکھتے، آپ اس سے پوچھتے کہ تیرا نام کیا ہے؟ وہ اپنا نام بتا دیتا، آپ پوچھتے کہ تمہارا فائدہ کیا ہے؟ وہ اپنے فوائد بتا دیتا، اگر وہ کسی دوائی کے کام آتا تو لکھ لیا جاتا، اگر وہ بونے کا ہوتا تو اسے بو دیا جاتا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے، آپ نماز پڑھ رہے تھے، آپ کے سامنے ایک درخت اگا، آپ نے اس کا نام پوچھا، اس نے بتایا کہ میرا نام ” خرنوب “ ہے، آپ نے پوچھا: تمہارا فائدہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میں جس گھر میں اگتا ہوں، وہ گھر برباد ہو جاتا ہے، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دعا مانگی ” یا اللہ! جنات سے میری موت کو پوشیدہ رکھنا، تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ جنات غیب نہیں جانتے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر گاڑا اور اس پر ٹیک لگا لی، اسی دوران آپ کی روح پرواز کر گئی اور پورا ایک سال آپ اسی کیفیت میں اس پر ٹیک لگا کر کھڑے رہے، اور جنات مسلسل کام کرتے رہے، جب زمین نے اس عصا کو کھا لیا، تو عصا گر گیا، (اس وجہ سے سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی گر گئے) جب آپ گرے تو تمام انسانوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ جنات کو غیب کا علم نہیں ہے (کیونکہ اگر ان کو غیب کا علم ہوتا تو سیدنا سلیمان علیہ السلام کی وفات سے بے خبر نہ رہتے) راوی کہتے ہیں: جنات نے زمین کا شکریہ ادا کیا، اور شکرانے کے طور پر اس پر پانی لے کر آئے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ حدیث اسی طرح روایت کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7616]