🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ خُلُقٌ حَسَنٌ
مسلمان بندے کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7617
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عبد الجبَّار بن العباس الشِّبَامي (3) ، عن سَلَمة بن كُهيل، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: كان سليمانُ بن داود إذا صلَّى الصلاة طَلَعَتْ بين عينيه شجرةٌ، فيقول لها ما أنتِ؟ ولأيِّ شيء طلعتِ؟ فتقول: أنا شجرةُ كذا وكذا، طلعتُ لداءِ كذا وكذا، فلما صلَّى ذاتَ يوم الغداةَ، طلعَتْ بين عينيه شجرةٌ، فقال لها: ما أنتِ؟ ولأيِّ شيء طلعتِ؟ قالت أنا الخُرْنوب، طلعتُ لِخَراب هذا المسجد، فعَلِمَ سليمانُ أنَّ أجلَه قد اقترب، وأنَّ بيت المَقدِس لا يَحْرَبُ وهو حيٌّ، فدعا الله تعالى أن يُعمِّي على الشيطان موتَه، وكانت الجنُّ تزعُمُ أَنَّ الشياطين يعلمون الغيبَ، فمات على عصاه، فسَلَّط الأَرضَةَ على عصاه فأكلَتْها فسقط، فحَقَّ على الشياطين أن تأتيَ الأَرضَةَ بالماء حيث كانت تُثْني عليها شُكرًا بما صنعَتْ بعصا سليمان (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام جب نماز پڑھتے تو آپ کے سامنے ایک درخت نمودار ہوتا، آپ اس سے اس کا نام اور فائدہ پوچھتے، وہ اپنا نام بھی بتاتا اور جس کام میں وہ استعمال ہوتا ہے وہ مقصد بھی بتاتا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کے سامنے ایک درخت نمودار ہوا، آپ نے اس سے اس کا نام اور فائدہ پوچھا، اس نے بتایا کہ میرا نام خرنوب ہے، اور میں اس مسجد کو برباد کرنے کے لئے آیا ہوں، سیدنا سلیمان علیہ السلام سمجھ گئے کہ اب ان کی وفات کا دن قریب ہے کیونکہ میری حیات میں بیت المقدس اجڑ نہیں سکتا۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ جنات سے ان کی موت کو مخفی رکھا جائے، جنات یہ سمجھتے تھے کہ وہ غیب جانتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا سلیمان علیہ السلام عصا کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے انتقال کر گئے، جب زمین نے عصا کو کھا لیا اور سلیمان علیہ السلام زمین پر گر گئے، (تب جنات کو پتہ چلا کہ سلیمان علیہ السلام تو وفات پا چکے ہیں، اس سے ثابت ہو گیا کہ جنات غیب کا علم نہیں رکھتے) جنات نے اپنے اوپر زمین کا یہ حق سمجھا کہ وہ زمین پر پانی لائیں۔ کیونکہ وہ سلیمان علیہ السلام کا عصا کھانے پر زمین کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7617]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7618
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا علي بن محمد الطَّنَافسي، حدثنا مِسعَر، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي (2) ، حدثنا إسحاق وعثمان بن أبي شَيْبة، قالا: حدثنا جَرير، عن الأعمش، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا عبد الله بن عمر الجَوهَري بمَرْو، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا إبراهيم بن الحجَّاج، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا الأعمش، عن زياد ابن عِلاقة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو خَيثمة زهير بن معاوية الجُعفي، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنِّي بمَرُو، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر الشافعي، حدثني إسحاق بن الحسن، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، أخبرنا إسرائيل، حدثنا زياد بن عِلاقة. وأخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن بشر أخو خطّاب، حدثنا محمد بن الصَّبَّاح، حدثنا أسباط بن نصر، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهرا إن الأصبهاني، حدثنا عبيد الله ابن موسى، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا المطَّلِب بن زياد، حدثنا زياد بن عِلاقة. وأخبرنا أحمد بن عثمان الأَدَمي ببغداد، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا المسعودي، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا أبي العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عيسى المَدَائني، حدثنا سلَّام بن سليمان، حدثنا وَرْقاء بن عمر، عن زياد بن عِلاقة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العدل وأبو بكر الشافعي، قالوا -واللفظ لهم-: حدثنا بشر بن موسى حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثني زياد بن عِلاقة، قال: سمعتُ أُسامة بن شَرِيك العامريَّ يقول: شهدتُ الأعاريبَ يسألون رسولَ الله ﷺ: هل علينا حَرَجٌ في كذا وفي كذا؟ فقال:"عبادَ الله، وَضَعَ الله الحَرَجَ إلَّا مَن اقترض من عِرْض أخيه شيئًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَكَ" قالوا: يا رسولَ الله، نَتَداوى؟ قال:"تَداوَوْا عبادَ الله، فإنَّ الله تعالى لم يُنزِلْ دَاءً إِلَّا وقد أنزلَ له شِفاءً إِلَّا هذا الهَرَمَ" قالوا: يا رسولَ الله، ما خيرُ ما أُعطيَ العبدُ المسلم؟ قال:"خُلُقُ حَسَنٌ (1) . هذه أسانيد صحيحة، كلُّها على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والعلة عندهم فيه أنَّ أُسامة بن شريك ليس له راو غير زياد بن عِلاقة (2) ، وقد ثَبَتَ في أول هذا الكتاب بالحُجَج والبراهين والشواهد عنهما، أنَّ هذا ليس بعلّة، وقد بقي من طرق هذا الحديث عن زياد بن عِلاقة أكثرُ مما ذكرتُه، إذ لم تكن الروايةُ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7430 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسامہ بن شریک عامری فرماتے ہیں: میں اس بات کا گواہ ہوں کہ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہمیں فلاں فلاں کام میں کوئی حرج ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو، اللہ تعالیٰ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو اپنے بھائی کی عزت کے ساتھ کھیلے، یہ حرج ہے، اور یہ باعث ہلاکت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم علاج کروا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو، علاج کرواؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موت کے سوا ہر بیماری کا علاج نازل کیا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان کو جو کچھ عطا کیا گیا اس میں سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ ٭٭ اس حدیث کی تمام اسانید امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور محدثین کے نزدیک اس میں علت یہ ہے کہ اسامہ بن شریک کا زیاد بن علاقہ کے علاوہ دوسرا کوئی راوی نہیں ہے۔ جبکہ اس کتاب کے آغاز میں دلائل اور براہین کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ علت نہیں ہے۔ اس حدیث کے زیاد بن علاقہ کے حوالے سے اور بہت سارے طرق ہیں جن کو صحیحین کے معیار پر نہ ہونے کی وجہ سے میں نے یہاں ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7618]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7619
حدثنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهمذان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم (1) الخزَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان، حدثنا صالح بن [أبيٍ] (2) الأخضر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن حَكيم بن حِزام، قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أرأيتَ أدويةً نتداوى بها، ورُقًى نَسترقي بها، أتردُّ من قَدَر الله؟ قال:"إنها من قَدَرِ الله" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه يونس بن يزيد وعمرو بن الحارث بإسناد آخر، وهو المحفوظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7431 - صحيح
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم جو دوائی لیتے ہیں، یا دم کرواتے ہیں، کیا یہ تقدیر کو بدل دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا تعلق بھی تقدیر سے ہی ہے (یعنی دوائی لینا یا دم کروانا بھی تقدیر میں لکھا ہو تو انسان لیتا ہے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو یونس بن یزید اور عمر بن حارث نے دوسری اسناد کے ہمراہ نقل کیا ہے، وہ محفوظ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7619]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7620
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث ويونسُ بن يزيد عن ابن شِهاب، أنَّ أبا خِزَامة ابن يَعْمَر، أَحد بني (4) الحارثِ بن سعد حدثه، أنَّ أباه حدثه: أنَّه قال لرسول الله ﷺ: يا رسولَ الله، أرأيتَ دواءً نتداوى به، ورُقًى نَسترقيها، وتُقًى نَتَّقِيه، هل يَرُدَّ ذلك من قَدَرِ الله من شيء؟ فقال رسول الله ﷺ:"إنَّه من قَدَرِ الله" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7432 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا کیا خیال ہے؟ کہ ہم جو دوا لیتے ہیں یا دم کرواتے ہیں، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر کو بدل دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی تقدیر سے ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7620]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7621
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الذي أَنزَلَ الداءَ أَنزَلَ الشِّفاءَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7433 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیھما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7621]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں