🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. إِنَّ اللَّهَ لَيَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الدُّنْيَا .
بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا کی (آسائشوں) سے بچاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7651
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل بالرَّيِّ الفقيه، حدثنا أبو بكر محمد بن الفرج الأزرق ببغداد، حدثنا حجَّاج بن محمد المِصِّيصي، عن ابن جُرَيج، أخبرني عمرو بن يحيى بن عُمَارة بن أبي حسن، حدثتني مريم بنت إياس ابن البُكَير صاحبِ النبي ﷺ، عن بعض أزواج النبيِّ ﷺ -وأَظنُّها زينبَ-: أَنَّ النبيَّ ﷺ دخل عليها، فقال:"عندَكِ ذَرِيرةٌ؟" فقالت: نعم، فدَعَا بها ووَضَعَها على بَثْرة بين إصبَعينِ من أصابع رِجله، فقال:"اللهمَّ مُطفِئَ الكبير، ومُكبِّرَ الصغير، أَطفِئها عنِّي"، فطَفئَتْ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7463 - صحيح
مریم بن ایاس بن البکیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے صحابی ہیں، انہوں نے ایک ام المومنین کے حوالے سے روایت کیا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ ام المومنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہیں۔ (روایت کرتی ہیں کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اور ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس ذریرہ (ایک خاص قسم کی خوشبو) ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منگوائی، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان پھنسی پر رکھی، پھر یوں دعا مانگی اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبِيرِ وَمُكَبِّرَ الصَّغِيرِ أَطْفِهَا عَنِّي فَطُفِئَتْ۔ اے اللہ! اے بڑے کو ختم کرنے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے، اس کو مجھ سے ختم کر دے تو فوراً آرام آ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7651]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7652
أخبرنا دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا عبد العزيز بن معاوية البصري، حدثنا محمد بن جَهْضَم، حدثنا إسماعيل بن جعفر عن عُمارة بن غَزِيَّة، عن عاصم ابن عمر بن قَتَادة، محمود بن لَبيد، عن قَتَادة بن النُّعمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أحبَّ اللهُ عبدًا حَمَاه الدنيا، كما يَظُلُّ أحدُكم يَحْمِي سَقِيمَه الماءَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشرحُ (2) هذا الحديث وبيانُه فيما أَمر به عمرُ بن الخطّاب ﵁:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7464 - صحيح
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو دنیا سے یوں بچاتا ہے جیسے تم اپنے کسی بیمار کو پانی سے بچاتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے شیوخ اور اس کا بیان درج ذیل اس حدیث میں ہے جس میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا حکم موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7652]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7653
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا مُسلم بن خالد، حدثنا زيد بن أسلم، عن أبيه قال: مرضتُ في زمان عمر بن الخطّاب مرضًا شديدًا، فدعا لي عمرُ طبيبًا، فحَمَاني حتى كنتُ أمَصُّ النَّواةَ من شدّة الحِمْية (3) . وقد فسَّره عمرو بن أبي عمرو مولى المُطَّلِب في روايته عن عاصم بن عمرو بن قَتَادة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7465 - صحيح
سیدنا زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں شدید بیمار ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طبیب کو بلایا، اس نے مجھے سخت پرہیز بتا دیا حتی کہ اس پرہیز میں، مجھے صرف کھجور کی گٹھلی چوسنے کی اجازت تھی۔ ٭٭ مطلب کے آزاد کردہ غلام عمرو بن ابی عمرو نے جو حدیث عاصم بن عمرو بن قتادہ سے روایت کی ہے اس میں اس کی تفسیر بیان کی ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا سے بچاتا ہے، حالانکہ بندہ اس کو کھانا چاہتا ہے، جیسا کہ تم اپنے مریض کو اس کی طبیعت کی خرابی کے خوف سے کھانے پینے کی چیزوں سے بچاتے ہو۔ ٭٭ سیدنا ابوسعید سے اسی طرح حدیث مروی ہے، اور عمارہ بن غزیہ کی قتادہ بن نعمان سے مروی حدیث میں بھی یہی مفہوم ہے۔ اور ہمارے نزدیک یہ دونوں اسنادیں میرے نزدیک صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7653]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں