المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. الْحَجْمُ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ .
حجامہ کروانا ان بہترین چیزوں میں سے ہے جن سے تم علاج کرتے ہو
حدیث نمبر: 7654
حدثنا علي بن عيسى الحيري، حدثنا جعفر بن محمد ابن التُّرك (1) ومحمد بن عمرو بن النَّضر الحَرَشي، قالا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إسماعيل ابن جعفر، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبيد، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إنَّ الله تعالى لَيَحمِي عبدَه المؤمنَ الدُّنيا وهو يُحبُّه، كما تَحمُونَ مريضَكم الطعامَ والشرابَ تخافونَ عليه" (2) . كذا قال: عن أبي سعيد، وفي حديث عُمارة بن غَزِيَّة: عن قَتَادة بن النُّمعان، والإسنادان عندي صحيحان، والله أعلم.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے سے محبت کرنے کے باوجود اسے دنیا (کی آسائشوں) سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم اپنے مریض کو کھانے اور پینے سے (پرہیز کروا کر) بچاتے ہو کیونکہ تمہیں اس کی صحت کا خوف ہوتا ہے۔“ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح (راوی نے) یہ حدیث سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور عمارہ بن غزیہ کی حدیث میں یہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ؛ اور میرے نزدیک یہ دونوں اسناد صحیح ہیں، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7654]
حدیث نمبر: 7655
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بُكير بن عبد الله حدَّثه، أنَّ عاصم ابن عمر بن قَتَادة حدَّثه: أنَّ جابر بن عبد الله عادَ المُقنَّعَ، ثم قال: لا أَبْرَحُ حتى يَحتجِمَ، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ فيه شِفاءً" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7466 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7466 - على شرط البخاري ومسلم
عاصم بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مقنع (بن سنان تابعی) کی عیادت کی پھر فرمایا: میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک تو پچھنے نہیں لگوائے گا۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس میں شفاء ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیھما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7655]
حدیث نمبر: 7656
أخبرنا أبو العباس محمد بن محمود (1) المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن عبد الملك ابن عُمير، عن حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة قال: دخل أعرابيٌّ من بني فَزارة من بني أُمِّ قِرْفة على رسول الله ﷺ، فإذا حجَّامٌ يَحجُمُه بمَحاجِمَ (2) له من قُرون، يَشرِطُ بشَفْرةٍ، فقال: ما هذا يا رسولَ الله؟ لِمَ تَدَعُ هذا يقطعُ عليك جِلدَك؟ قال:"هذا الحَجْمُ، وهو خيرُ ما تداويتُم به" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه شُعبةُ بن الحجَّاج العَتَكيُّ وزهير بن معاوية الجُعْفيُّ عن عبد الملك ابن عُمير. أما حديثُ شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7467 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه شُعبةُ بن الحجَّاج العَتَكيُّ وزهير بن معاوية الجُعْفيُّ عن عبد الملك ابن عُمير. أما حديثُ شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7467 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی ام قرفہ میں سے بنی فزارہ کا ایک دیہاتی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، ایک حجام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں پچھنے لگا رہا تھا۔ وہ چھری کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں نشتر لگا رہا تھا۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ یہ کس قسم کا علاج کروا رہے ہیں؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس کو یہ اجازت کیوں دے رکھی ہے کہ یہ آپ کی جلد کاٹ رہا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حجامت ہے، اور تمہارے علاجوں میں، یہ طریقہ علاج سب سے بہتر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیھما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث شعبہ بن حجاج عتکی اور زہیر بن معاویہ جعفی نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کیا ہے۔ شعبہ کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7656]
حدیث نمبر: 7657
فحدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا زكريا بن يحيى الساجي، حدثنا عبد الوارث ابن عبد الصمد، حدثني أبي، حدثنا شُعبة، عن عبد الملك بن عُمَير، قال: سمعتُ حُصَين بن أبي الحُرِّ يُحدِّث عن سَمُرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"خيرُ ما تداويتُم به الحَجْمُ" (1) . وأما حديثُ زهير:
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین طریقہ علاج حجامت (پچھنے لگوانا) ہے۔ زہیر سے روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7657]
حدیث نمبر: 7658
فحدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ قال أحمد بن محمد بن نصر: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زُهير، عن عبد الملك بن عُمير، حدثني حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة، عن النبيِّ ﷺ نحوَه (2) . وقد رواه داود بن نُصَير الطائي عن عبد الملك بن عُمير:
زہیر نے عبدالملک بن عمیر کے واسطے سے حصین بن حر کے حوالے سے سمرہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7658]
حدیث نمبر: 7659
أخبرَناه محمد بن يعقوب الأخرَم، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، حدثنا داود بن نُصَير، عن عبد الملك بن عُمير، عن حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة قال: دخلَ أعرابيٌّ من بني فَزَارة من بني أُمَّ قِرْفة على رسول الله ﷺ، فإذا حجَّامُ يَحجُمُه بمَحاجمَ له من قُرون فشَرَطه (3) بشَفْرةٍ، فقال: ما هذا يا رسولَ الله، لِمَ تَدَعُ هذا يقطَعُ عليك جِلدَك؟ قال:"هذا الحَجْمُ" قال: وما الحجمُ؟ قال:"خيرُ ما تَداوَى به النَّاسُ" (4) .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی ام قرفہ میں سے بنی فزارہ کا ایک دیہاتی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو ایک حجام اپنے اوزار کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگا رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں چھری کے ساتھ نشتر لگا رہا تھا۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا ہے؟ آپ نے اس کو یہ اجازت کیوں دے رکھی ہے؟ یہ آپ کی جلد کو کاٹ رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حجامت ہے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجامت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ جو علاج کرواتے ہیں، ان میں سب سے اچھا طریقہ علاج حجامت (پچھنے لگوانا) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7659]
حدیث نمبر: 7660
أخبرنا نَصْر بن محمد (1) بن الحطَّاب (2) ببغداد، حدثنا محمد بن غالب ابن حرب، حدثنا زكريا بن عَدِي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرَّقي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن محمد بن قيس، حدثنا أبو الحَكَم البَجَلي -وهو عبد الرحمن بن أبي نُعْم (3) - قال: دخلتُ على أبي هريرة وهو يَحتجِمُ، فقال لي: يا أبا الحَكَم، احتجِمْ، قال: فقلت: ما احتجَمتُ قطُّ، قال: أخبرني أبو القاسم ﷺ: أنَّ جبريل ﵇ أخبره:"أَنَّ الحَجْمَ أفضلُ ما تَداوَى به الناسُ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7470 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7470 - على شرط البخاري ومسلم
ابوالحکم بجلی عبدالرحمن بن ابی نعم فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حجامت کروا رہے تھے، انہوں نے مجھے کہا: اے ابوالحکم! پچھنے لگواؤ گے؟ میں نے کہا: میں نے تو کبھی بھی پچھنے نہیں لگوائے۔ انہوں نے کہا: ابوالقاسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے ان کو بتایا ہے کہ لوگ جو علاج کراتے ہیں ان میں سب سے اچھا طریقہ علاج ” حجامت “ (پچھنے لگوانا) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیھما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7660]