المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقُرِّ
اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن (10 ذوالحجہ) ہے اور پھر اس سے اگلا دن (یوم القر)
حدیث نمبر: 7712
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن ثَوْر بن يزيد، عن راشد بن سعد، عن عبد الله بن لُحَي (1) ، عن عبد الله بن قُرْط قال: قال رسول الله ﷺ:"أعظمُ الأيام عندَ الله يومُ النَّحر، [ثم] (2) يومُ القَرِّ (3) "، وقُدِّم إلى النبيِّ ﷺ بَدَناتٌ خمسٌ أو ستٌّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ بأيَّتِهِنَّ يبدأُ بها، فلما وَجَبَتْ جُنوبُها قال كلمةً خفيفةَ لم أفهمها، فسألتُ مَن يليه، فقال: قال:"مَن شاءَ اقتَطَعَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7522 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7522 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن قربانی کا دن (10 ذوالحجہ) ہے، پھر اس کے بعد قرار کا دن (11 ذوالحجہ) ہے۔“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانچ یا چھ اونٹ پیش کیے گئے تو وہ ایک دوسرے کے قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس سے ابتدا فرماتے ہیں، پھر جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر کلمہ ارشاد فرمایا جو میں سمجھ نہ سکا، میں نے آپ کے قریبی شخص سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اس (کے گوشت) میں سے کاٹ لے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7712]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7712]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7712] [ترقيم الشركة 7620] [ترقيم العلميه 7522]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح