المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. مَا تُقُرِّبَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ النَّحْرِ بِشَيْءٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ
قربانی کے دن اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے بڑھ کر کوئی عمل پسندیدہ نہیں
حدیث نمبر: 7712
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن ثَوْر بن يزيد، عن راشد بن سعد، عن عبد الله بن لُحَي (1) ، عن عبد الله بن قُرْط قال: قال رسول الله ﷺ:"أعظمُ الأيام عندَ الله يومُ النَّحر، [ثم] (2) يومُ القَرِّ (3) "، وقُدِّم إلى النبيِّ ﷺ بَدَناتٌ خمسٌ أو ستٌّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ بأيَّتِهِنَّ يبدأُ بها، فلما وَجَبَتْ جُنوبُها قال كلمةً خفيفةَ لم أفهمها، فسألتُ مَن يليه، فقال: قال:"مَن شاءَ اقتَطَعَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7522 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7522 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن قرط فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے مقرب ترین دن قربانی کا دن ہے، اس کے بعد ” قربانی سے اگلا دن “ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانچ یا چھ اونٹ آئے، وہ ایک دوسرے کے اوپر گر رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اس کو ذبح کریں۔ جب وہ ذبح ہو گئے اور ان کے جسموں کی حرکت ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستگی کے ساتھ کوئی بات بولی، جس کو میں سمجھ نہیں سکا، میں نے ساتھ والے آدمی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ” اب جو چاہے ان کا گوشت کاٹ لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7712]