المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ .
جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا اور اس کے لیے جنت واجب ہو گئی
حدیث نمبر: 7829
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح المصري، حَدَّثَنَا سليمان بن هَرِمٍ القرشي. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا عُبيد بن شَريك، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكير، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن سليمان بن هَرِم، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر بن عبد الله قال: خرجَ علينا النَّبِيُّ ﷺ فقال:"خَرَجَ من عندي خَليلي جبريلُ آنفًا، فقال: يا محمدُ، والذي بعثَك بالحقِّ، إِنَّ الله عبدًا من عَبيدِه عَبَدَ الله تعالى خمسَ مئةِ سنةٍ على رأس جبلٍ في البَحْر، عَرْضُه وطولُه ثلاثون ذِراعًا في ثلاثين ذِراعًا، والبحرُ محيطٌ به أربعةُ آلافِ فَرْسخٍ من كلِّ ناحية، وأخرجَ الله تعالى له عَينًا عَذْبةً بِعَرْضِ الإصبَع تَبِضُّ بماءٍ عَذْب، فتستنقِعُ في أسفل الجبل، وشجرةَ (2) رمَّانٍ تُخرِج له كلَّ ليلة رُمَّانةً فتُغذِّيه يومَه، فإذا أمسى نزلَ فأصاب من الوَضُوء، وأخذ تلك الرُّمانةَ فأكلَها، ثم قامَ لصلاتِه، فسأل ربَّه ﷿ عندَ وقتِ الأجَلِ أن يَقبِضَه ساجدًا، وأن لا يجعلَ للأرض ولا لشيء يُفسِده عليه سبيلًا حتَّى يَبعثَه وهو ساجد. قال: ففعل، فنحن نمرُّ عليه إذا هَبَطْنا وإذا عَرَجْنا، فنجدُ له في العِلْم أَن يُبعَثَ يومَ القيامة فيُوقفَ بين يدي الله ﷿، فيقول له الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةِ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةَ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةَ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الله ﷿ للملائكة: قايِسُوا عبدي بنِعمتي عليه وبعملِه، فتُوجَدُ نعمةُ البَصَر قد أحاطَتْ بعبادة خمسِ مئة سنةٍ، وبقيَت نعمةُ الجسد فضلًا عليه، فيقولُ: أَدخِلوا عبدي النَّار، قال: فيُجَرُّ (1) إلى النار، فينادي: ربِّ برحمتِكَ أدخِلني الجنَّةَ، فيقول: رُدُّوه، فيقفُ بين يديه، فيقول: يا عبدي، مَن خلقَك ولم تكُ شيئًا؟ فيقول: أنتَ يا ربِّ، فيقول: كان ذلك من قِبَلِك أو برحمتي؟ فيقول: بل برحمتِكَ، فيقول: مَن قَوَّاك لعبادة خمسِ مئة عام؟ فيقول: أنت يا ربِّ، فيقول: مَن أنزلَك في جبل وَسَطَ اللُّجَّة، وأخرجَ لك الماءَ العَذْبَ من الماء المالح، وأخرجَ لك كلَّ ليلةٍ رُمَّانةً وإنما تخرُجُ مرةً في السَّنة، وسألتَني أن أقبضِكَ ساجدًا، ففعلتُ ذلك بك؟ فيقول: أنتَ يا ربِّ، فقال الله ﷿: فذلك برحمتي، وبرحمتي أُدخِلُك الجنَّةَ، أَدِخلوا عبدي الجنَّةَ، فنِعْمَ العبدُ كنتَ يا عبدي، فيُدخِله اللهُ الجنَّةَ، قال جِبريلُ ﵇: إنما الأشياءُ برحمةِ الله تعالى يا محمدُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ سليمان بن هَرِمٍ العابدَ (3) من زُهَّاد أهل الشام (4) ، والليثُ بن سعد لا يَروِي عن المجهولين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7637 - لا والله وسليمان بن هرم غير معتمد
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ سليمان بن هَرِمٍ العابدَ (3) من زُهَّاد أهل الشام (4) ، والليثُ بن سعد لا يَروِي عن المجهولين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7637 - لا والله وسليمان بن هرم غير معتمد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: ابھی ابھی میرے پاس سے میرے دوست جبریل امین علیہ السلام تشریف لے کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس نے پانچ سو سال تک ایک پہاڑ کی چوٹی پر عبادت کی ہے، وہ پہاڑ تیس ذراع مربع ہے۔ اور اس پہاڑ کو چاروں طرف سے چار ہزار فرسخ دریا نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کے لیے ایک انگلی کی مقدار مقام سے پانی کا چشمہ جاری فرمایا، تھوڑا تھوڑا میٹھا پانی رستا رہتا تھا، پھر وہ پہاڑ کی نچلی جانب سے صاف ستھرا ہو کر نکلتا۔ وہاں انار کا ایک درخت تھا، ہر رات اس کو ایک انار لگتا، جس سے اس کو ایک دن کی عذا مل جاتی۔ جب شام ہوتی تو وہ وضو کرنے کے لیے نیچے اترتا، اور اس انار کو کھا لیتا۔ اور دوبارہ عبادت میں مصروف ہو جاتا، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ یا اللہ اس کو سجدے کی حالت میں موت عطا کرنا۔ اور زمین یا کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہ پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ملک الموت کو بھیجا تو وہ آدمی اس وقت سجدے میں تھا۔ سجدے کے عالم اس کی روح کو قبض کیا گیا، (سیدنا جبریل امین علیہ السلام فرماتے ہیں) ہم آتے جاتے اس کو دیکھتے تھے، ہمیں یہ علم تھا کہ اس کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا اور اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس بندے کے بارے میں فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت کی بناء پر جنت میں داخل کر دو، وہ بندہ کہے گا: اے میرے رب، میرے اعمال کی بناء پر مجھے جنت میں بھیجا جائے، اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت سے جنت میں بھیج دو، وہ کہے گا: (رحمت نہیں) بلکہ مجھے میرے اعمال صالحہ کی بناء پر جنت بھیجا جائے، اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت سے جنت میں بھیج دو، وہ کہے گا: اے میرے رب، میرے عمل کی بناء پر مجھے جنت میں بھیج دو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس بندے کے اعمال اور اس پر جو میری نعمتیں ہیں ان کا موازنہ کیا جائے، صرف انکھوں کی نعمت ہی اس کے پانچ سو سال کی عبادت سے زائد ہو گی، اور باقی پورا جسم تو اس کی عبادت سے کہیں زائد ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو دوزخ میں ڈال دیا جائے، چنانچہ اس بندے کو دوزخ کی جانب گھسیٹا جائے گا تو پکار پکار کر کہے گا: اے میرے رب مجھے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کو چھوڑ دو، اس کو دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! تو کچھ بھی نہ تھا، تجھے پیدا کس نے کیا ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب تو نے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تیری طرف سے ہوا یا میری رحمت سے؟ وہ کہے گا: یا اللہ محض تیری رحمت سے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پانچ سو سال تجھے عبادت کی طاقت کس نے بخشی؟ وہ کہے گا: اے میرے پروردگار تو نے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے پہاڑ کے درمیان غار کے اندر کس نے اتارا؟ اور کھاری پانی میں سے تیرے لیے میٹھا پانی کس نے نکالا تھا؟ اور ہر رات تیرے لیے انار کون مہیا کرتا تھا؟ اور تو پورے سال میں ایک مرتبہ باہر نکلتا تھا اور تو نے مجھ سے دعا مانگی تھی کہ میں تجھے سجدے کی حالت میں موت دوں، یہ سب تیرے لیے کس نے کیا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب، سب تو نے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب میری رحمت کی بناء پر تھا، اور اپنی رحمت ہی سے تجھے میں جنت میں داخل کروں گا۔ (پھر فرشتوں سے فرمائے گا) میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو۔ اے میرے بندے تو کتنا ہی اچھا بندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بندے کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا،” سلیمان بن ہرم “ اہل شام کے عبادت گزار لوگوں میں سے ہیں۔ اور لیث بن سعد مجہول راویوں کی روایات نقل نہیں کرتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7829]