المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الَّتِي بَعْدَهَا كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا .
ایک فرض نماز دوسری نماز تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے
حدیث نمبر: 7858
أخبرني عمرو بن محمد بن منصور العدل، أخبرنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حَدَّثَنَا عمرو بن عَون الواسطي، حَدَّثَنَا إسحاق بن يوسف، حَدَّثَنَا العوَّام بن حَوشَب، عن عبد الله بن السائب، عن أبي هريرة، عن النَّبِيِّ ﷺ أنه قال:"الصلاةُ المكتوبةُ إلى الصلاةِ التي بعدها كفَّارةٌ لما بينهما، والجمعةُ إلى الجمعة، والشَّهرُ إلى الشَّهر - يعني شهر رمضان إلى شهرِ رمضان - كفَّارةٌ لما بينَهما (2) . قال: ثم قال بعد ذلك:"إلَّا من ثلاثٍ: الإشراكِ (3) بالله، ونَكْثِ الصَّفقة، وترك السُّنة، أما نَكْتُ الصَّفْقة فالإمامُ تُعطِيه بيعتَكَ، ثم تُقبِلُ عليه تُقاتِلُه بسيفك، وأما تركُ السُّنة فالخروجُ من الجماعة" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7665 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7665 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نماز اپنی اگلی نماز تک، اور جمعہ اگلے جمعہ تک، اور مہینہ اگلے مہینے تک - یعنی رمضان سے رمضان تک - ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا: ”سوائے تین چیزوں کے (کہ وہ ان سے معاف نہیں ہوتیں): اللہ کے ساتھ شرک کرنا، معاہدے کی خلاف ورزی کرنا، اور سنت کو چھوڑنا۔ معاہدے کی خلاف ورزی سے مراد یہ ہے کہ تم امام کو اپنی بیعت دو، پھر اس کے خلاف ہو کر اپنی تلوار سے اس کے ساتھ قتال کرو، اور سنت چھوڑنے سے مراد جماعت سے نکل جانا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7858]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7858]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات وهو غريب بهذا السياق، وسلف الكلام عليه برقم (417)» [ترقيم الرساله 7858] [ترقيم الشركة 7764] [ترقيم العلميه 7665]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات وهو غريب بهذا السياق