🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. ذكر الكبائر التسع .
نو بڑے (کبیرہ) گناہوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7858
أخبرني عمرو بن محمد بن منصور العدل، أخبرنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حَدَّثَنَا عمرو بن عَون الواسطي، حَدَّثَنَا إسحاق بن يوسف، حَدَّثَنَا العوَّام بن حَوشَب، عن عبد الله بن السائب، عن أبي هريرة، عن النَّبِيِّ ﷺ أنه قال:"الصلاةُ المكتوبةُ إلى الصلاةِ التي بعدها كفَّارةٌ لما بينهما، والجمعةُ إلى الجمعة، والشَّهرُ إلى الشَّهر - يعني شهر رمضان إلى شهرِ رمضان - كفَّارةٌ لما بينَهما (2) . قال: ثم قال بعد ذلك:"إلَّا من ثلاثٍ: الإشراكِ (3) بالله، ونَكْثِ الصَّفقة، وترك السُّنة، أما نَكْتُ الصَّفْقة فالإمامُ تُعطِيه بيعتَكَ، ثم تُقبِلُ عليه تُقاتِلُه بسيفك، وأما تركُ السُّنة فالخروجُ من الجماعة" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7665 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک فرض نماز اگلی فرض نماز تک کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے تین گناہوں کے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ کیا ہوا سودا توڑنا۔ سنت کو ترک کرنا۔ سودا توڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جس امام کی تم نے بیعت کی ہو، اس کے خلاف بغاوت کرنا۔ اور ترک سنت کا مطلب ہے جماعت سے الگ ہونا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7858]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7858 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) من قوله: "والجمعة" إلى هنا لم يرد في (ز).
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "والجمعہ" سے لے کر یہاں تک کی عبارت نسخہ (ز) میں موجود نہیں ہے۔
(3) في (ز): إلّا شرك.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "إلا شرک" کے الفاظ درج ہیں۔
(4) رجاله ثقات وهو غريب بهذا السياق، وسلف الكلام عليه برقم (417).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم اس خاص سیاق و سباق کے ساتھ یہ روایت "غریب" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس پر تفصیلی بحث حدیث نمبر 417 کے تحت گزر چکی ہے۔
وأخرجه مختصرًا أبو الشيخ كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (1130)، وابن بطة في "الإبانة الكبرى" 1/ 281 من طريق إسحاق بن يوسف الأزرق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو الشیخ نے مختصرًا (جیسا کہ ابن حجر کی الغرائب الملتقطہ 1130 میں ہے) اور ابن بطہ نے "الابانۃ الکبریٰ" (1/ 281) میں اسحاق بن یوسف الازرق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔