المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. مَنْ تَابَ إِلَى اللَّهِ قَبْلَ الْغَرْغَرَةِ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ .
جس نے غرغرہ سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے
حدیث نمبر: 7852
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا عمر بن حفص السَّدوسي، حَدَّثَنَا عاصم بن علي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن أبيه، عن مكحول، عن جُبير بن نُفير، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ الله تعالى يَغفِرُ لعبده - أو يقبلُ توبةَ عبدِه - ما لم يُغَرغِرْ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7659 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7659 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: موت کی کیفیت طاری ہونے سے پہلے اگر بندہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور اس کو بخش دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7852]
حدیث نمبر: 7853
حَدَّثَنَا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاءً، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى ابن شَيْخ بن عَمِيرة الأَسَدي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح بن مسلم العِجْلي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن أبيه، عن مكحول، عن عمر بن نُعَيم، عن أسامة بن سلمان، أنَّ أبا ذَرٍّ الغِفاري حدَّثهم، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"إِنَّ الله يَغْفِرُ لعبدِه ما لم يَقَعِ الحِجابُ"، قيل: يا رسولَ الله، وما الحِجابُ؟ قال:"أن تموتَ النفسُ مشركةً" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7660 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7660 - صحيح
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حجاب اٹھنے سے پہلے اگر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7853]
حدیث نمبر: 7854
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن سعد، حَدَّثَنَا زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني قال: سمعتُ رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ [بيوم] (1) قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا آخر من أصحابِ رسول الله ﷺ، قال: أنت سمعتَ ذلك؟ قلت: نعم، قال: أشهَدُ لسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ بنصف يومٍ، قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا من أصحابِ رسول الله ﷺ، فقال: أنت سمعتَه؟ قال: قلت: نعم، فقال: أشهَدُ لسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ بضَحْوة، قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا آخرَ من أصحابِ رسول الله ﷺ، فقال: أنت سمعتَ ذلك؟ قلتُ: نعم، قال: فأشهَدُ لسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يُغرغِرَ، قَبِلَ اللهُ منه" (2) . هكذا رواه عبد العزيز بن محمد الدَّراوَرْدي عن زيد بن أسلم:
ایک صحابی رسول فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مرنے سے صرف ایک دن پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ عبدالرحمن بن بیلمانی فرماتے ہیں: میں نے یہی حدیث ایک دوسرے صحابی رسول کو سنائی، اس نے پوچھا: کیا تو نے یہ حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مرنے سے صرف آدھا دن پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی بھی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ عبدالرحمن فرماتے ہیں: پھر میں نے یہ حدیث ایک اور صحابی کو سنائی، اس نے بھی پوچھا: کیا تو نے یہ حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت سے صرف ایک ضحوہ (مخصوص وقت)۔ پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے، آپ فرماتے ہیں: میں نے یہی حدیث ایک اور صحابی کو سنائی، اس نے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے سانس اکھڑنے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ ٭٭ عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے زید بن اسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7854]
حدیث نمبر: 7855
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن حمزة، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني، عن رجل من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، سمعَ رسولَ الله ﷺ يقول:"والذي نفسي بيده، ما من إنسانٍ يتوبُ قبل أن يموتَ بيومٍ إِلَّا قَبِلَ اللهُ توبتَه" قال: فأخبرتُ بذلك رجلًا من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، فذكر مثلَ حديث هشام سواء (1) .
عبدالرحمن بن بیلمانی ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو شخص موت سے ایک دن پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ عبدالرحمن فرماتے ہیں: میں نے یہی حدیث اور ایک صحابی کو سنائی تو انہوں نے بھی اس کی تائید فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7855]
حدیث نمبر: 7856
فحدَّثَناه أبو جعفر محمد بن خُزَيمة بن قُتيبة الكِسِّي من أصل كتابه (2) ، حَدَّثَنَا فتح بن عمرو الكِسِّي، حَدَّثَنَا المُؤمَّل بن إسماعيل، حَدَّثَنَا سفيان الثَّوري، قال: كتبتُ إلى عبد الرحمن بن البَيلَماني أسأله عن حديث يُحدِّث به عن أبيه، فكتب إليَّ: أنَّ أباه حدَّثه أنه جلس إلى نَفَرٍ من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، فقال أحدُهم: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تابَ إلى الله قبلَ موتِه بسنةٍ تابَ اللهُ عليه"، فقال له آخرُ: أنت سمعتَه من رسولِ الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. قال آخرُ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من تابَ إلى اللهِ ﷿ قبلَ موتِه بيومٍ تابَ الله عليه"، قال آخرُ: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. قال آخرُ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله ﷿ قبل موتِه بساعةٍ تابَ الله عليه"، فقال آخرُ: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. فقال آخرُ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن تابَ إلى الله قبلَ الغَرغرةِ تابَ اللهُ عليه" (3) . سفيان بن سعيد وإن كان أحفظَ من الدَّراوَردي وهشام بن سعد، فإنه لم يذكر سماعَه في هذا الحديث من ابن البَيلَماني ولا زيدِ بن أسلم، إنما ذكره إجازةً ومكاتبةً، فالقولُ فيه قولُ من قال: عن زيد بن أسلم عن ابن البيلماني عن رجل من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، وقد شَفَى عبدُ الله بن نافع المدني فبيَّن في روايته عن هشام بن سعد أنَّ الصحابيَّ عبدُ الله بن عمرو بن العاص ﵄. وبصحَّة ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7663 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7663 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سفیان ثوری فرماتے ہیں: میں نے عبدالرحمن بن بیلمانی کی جانب ایک خط لکھ کر ان سے پوچھا کہ وہ مجھے وہ حدیث بتائیں جو انہوں نے اپنے والد سے لی ہے۔ انہوں نے مجھے جوابی مکتوب میں یہ حدیث لکھ کر بھیجی، کہ ان کے والد بیان کرتے ہیں کہ وہ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ دوسرے نے کہا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے سنا ہے۔ اس دوسرے صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت سے ایک مہینہ پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ ایک اور صحابی نے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میں نے یہی بات سنی ہے۔ اس تیسرے صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص موت سے ایک دن پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ چوتھے نے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنی ہے ” جو شخص موت سے ایک لمحہ پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ پانچویں نے اس سے کہا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے یہی سنا ہے۔ اس نے کہا: جو شخص موت کی ہچکی آنے سے پہلے پہلے توبہ کر لے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ ٭٭ سفیان بن سعید اگرچہ دراوردی اور ہشام بن سعد سے زیادہ حافظے والے ہیں، کیونکہ اس حدیث میں بن بیلمانی سے ان کے سماع کا کہیں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی زید بن اسلم کے سماع کا ذکر ہے۔ اس میں صرف اجازت اور کتابت کا تذکرہ ہے۔ اس سلسلے میں معتبر بات اس راوی کی ہے جس نے زید بن اسلم کے واسطے سے ابن بیلمانی کے واسطے سے ایک صحابی رسول سے روایت کی ہے۔ اور عبداللہ بن نافع مدنی اس روایت میں بے قصور ہیں، کیونکہ انہوں نے ہشام بن سعد کے واسطے سے بیان کر دیا ہے کہ وہ صحابی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7856]