المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. مَنْ تَابَ إِلَى اللَّهِ قَبْلَ الْغَرْغَرَةِ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ .
جس نے غرغرہ سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے
حدیث نمبر: 7853
حَدَّثَنَا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاءً، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى ابن شَيْخ بن عَمِيرة الأَسَدي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح بن مسلم العِجْلي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن أبيه، عن مكحول، عن عمر بن نُعَيم، عن أسامة بن سلمان، أنَّ أبا ذَرٍّ الغِفاري حدَّثهم، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"إِنَّ الله يَغْفِرُ لعبدِه ما لم يَقَعِ الحِجابُ"، قيل: يا رسولَ الله، وما الحِجابُ؟ قال:"أن تموتَ النفسُ مشركةً" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7660 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7660 - صحيح
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو معاف فرما دیتا ہے جب تک کہ ”حجاب“ واقع نہ ہو جائے“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حجاب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ انسان اس حال میں مرے کہ وہ مشرک ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7853]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7853]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف عمر بن نعيم وأسامة بن سلمان مجهولان» [ترقيم الرساله 7853] [ترقيم الشركة 7759] [ترقيم العلميه 7660]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7854
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن سعد، حَدَّثَنَا زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني قال: سمعتُ رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ [بيوم] (1) قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا آخر من أصحابِ رسول الله ﷺ، قال: أنت سمعتَ ذلك؟ قلت: نعم، قال: أشهَدُ لسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ بنصف يومٍ، قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا من أصحابِ رسول الله ﷺ، فقال: أنت سمعتَه؟ قال: قلت: نعم، فقال: أشهَدُ لسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ بضَحْوة، قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا آخرَ من أصحابِ رسول الله ﷺ، فقال: أنت سمعتَ ذلك؟ قلتُ: نعم، قال: فأشهَدُ لسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يُغرغِرَ، قَبِلَ اللهُ منه" (2) . هكذا رواه عبد العزيز بن محمد الدَّراوَرْدي عن زيد بن أسلم:
عبد الرحمن بن بیلمانی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص کو فرماتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مرنے سے ایک دن پہلے بھی اللہ کے حضور توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“۔ انہوں نے کہا: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دوسرے صحابی سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا تم نے خود یہ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے مرنے سے آدھا دن پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور صحابی سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے پوچھا: کیا تم نے یہ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے مرنے سے ایک پہر (ضحوہ) پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور صحابی سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے پوچھا: کیا تم نے یہ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے غرغرہ (موت کی ہچکی) شروع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7854]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن البيلماني، ومع ضعفه نفى صالح جزرة سماعه من أحد من الصحابة غير سُرَّق، وهشام بن سعد» [ترقيم الرساله 7854] [ترقيم الشركة 7760]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن البيلماني
حدیث نمبر: 7855
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن حمزة، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني، عن رجل من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، سمعَ رسولَ الله ﷺ يقول:"والذي نفسي بيده، ما من إنسانٍ يتوبُ قبل أن يموتَ بيومٍ إِلَّا قَبِلَ اللهُ توبتَه" قال: فأخبرتُ بذلك رجلًا من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، فذكر مثلَ حديث هشام سواء (1) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! جو انسان بھی مرنے سے ایک دن پہلے توبہ کر لے گا، اللہ اس کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا“، راوی کہتے ہیں: پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک (دوسرے) صحابی کو یہ بات بتائی، تو انہوں نے بھی ہشام کی حدیث کے مثل مکمل ذکر فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7855]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 7855] [ترقيم الشركة 7761]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7856
فحدَّثَناه أبو جعفر محمد بن خُزَيمة بن قُتيبة الكِسِّي من أصل كتابه (2) ، حَدَّثَنَا فتح بن عمرو الكِسِّي، حَدَّثَنَا المُؤمَّل بن إسماعيل، حَدَّثَنَا سفيان الثَّوري، قال: كتبتُ إلى عبد الرحمن بن البَيلَماني أسأله عن حديث يُحدِّث به عن أبيه، فكتب إليَّ: أنَّ أباه حدَّثه أنه جلس إلى نَفَرٍ من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، فقال أحدُهم: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تابَ إلى الله قبلَ موتِه بسنةٍ تابَ اللهُ عليه"، فقال له آخرُ: أنت سمعتَه من رسولِ الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. قال آخرُ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من تابَ إلى اللهِ ﷿ قبلَ موتِه بيومٍ تابَ الله عليه"، قال آخرُ: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. قال آخرُ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَابَ إلى الله ﷿ قبل موتِه بساعةٍ تابَ الله عليه"، فقال آخرُ: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. فقال آخرُ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن تابَ إلى الله قبلَ الغَرغرةِ تابَ اللهُ عليه" (3) . سفيان بن سعيد وإن كان أحفظَ من الدَّراوَردي وهشام بن سعد، فإنه لم يذكر سماعَه في هذا الحديث من ابن البَيلَماني ولا زيدِ بن أسلم، إنما ذكره إجازةً ومكاتبةً، فالقولُ فيه قولُ من قال: عن زيد بن أسلم عن ابن البيلماني عن رجل من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، وقد شَفَى عبدُ الله بن نافع المدني فبيَّن في روايته عن هشام بن سعد أنَّ الصحابيَّ عبدُ الله بن عمرو بن العاص ﵄. وبصحَّة ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7663 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7663 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عبدالرحمن بن بیلمانی کو خط لکھ کر ان کے والد سے مروی ایک حدیث کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے جواباً لکھا: ان کے والد نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت کی مجلس میں بیٹھے تھے، تو ان میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے اللہ کے حضور توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“، اس پر ایک دوسرے صاحب نے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر ایک اور صاحب نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنی موت سے ایک دن پہلے اللہ عزوجل کے حضور توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“، دوسرے نے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر ایک اور صاحب نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنی موت سے ایک گھنٹہ پہلے اللہ عزوجل کے حضور توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“، دوسرے نے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر ایک اور صاحب نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے (موت کی ہچکی اور) غرغرہ شروع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“۔
سفیان بن سعید اگرچہ دراوردی اور ہشام بن سعد سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث ہیں، لیکن انہوں نے اس حدیث میں ابن بیلمانی یا زید بن اسلم سے اپنے براہِ راست سماع کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے بطورِ اجازہ اور خط و کتابت ذکر کیا ہے، لہٰذا اس معاملے میں ان لوگوں کی بات زیادہ معتبر ہوگی جنہوں نے اسے زید بن اسلم عن ابن بیلمانی عن رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے روایت کیا، اور عبداللہ بن نافع مدنی نے ہشام بن سعد سے اپنی روایت میں اس صحابی کا نام واضح کر دیا ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7856]
سفیان بن سعید اگرچہ دراوردی اور ہشام بن سعد سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث ہیں، لیکن انہوں نے اس حدیث میں ابن بیلمانی یا زید بن اسلم سے اپنے براہِ راست سماع کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے بطورِ اجازہ اور خط و کتابت ذکر کیا ہے، لہٰذا اس معاملے میں ان لوگوں کی بات زیادہ معتبر ہوگی جنہوں نے اسے زید بن اسلم عن ابن بیلمانی عن رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے روایت کیا، اور عبداللہ بن نافع مدنی نے ہشام بن سعد سے اپنی روایت میں اس صحابی کا نام واضح کر دیا ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7856]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن خُزَيمة» [ترقيم الرساله 7856] [ترقيم الشركة 7762] [ترقيم العلميه 7663]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 7857
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأَسدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا عُمير بن مِرْداس، حَدَّثَنَا عبد الله بن نافع حَدَّثَنَا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن تابَ قبلَ موتِه بعامٍ تِيبَ عليه"، حتَّى قال:"بشَهر"، حتَّى قال:"بجُمعة" حتَّى قال:"بيوم"، حتَّى قال:"بساعة"، حتَّى قال:"بفُوَاق". فقلتُ: سبحان الله، أوَلم يَقُلِ اللهُ ﷿: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ﴾ [النساء: 18] ؟ فقال عبدُ الله: إنما أُحدِّثك بما سمعتُ من رسولِ الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لی اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی“، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ماہ پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک ہفتہ پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک دن پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک گھنٹہ پہلے“، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹنی کے دو بار دودھ دوہنے کے درمیانی وقفے (یعنی ایک مختصر لمحے) کے برابر پہلے (توبہ کر لی تو قبول ہوگی)۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: سبحان اللہ! کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ﴾ [سورة النساء: 18] ”اور ان لوگوں کے لیے توبہ (کی قبولیت) نہیں ہے جو برائیاں کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی“؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں وہی بیان کر رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7857]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف سبق الكلام عليه قريبًا برقم (7854)» [ترقيم الرساله 7857] [ترقيم الشركة 7763] [ترقيم العلميه 7664]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف