🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ .
بے شک اللہ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7875
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن غالب الضَّبّي وهشام بن علي السَّدوسي، قالا: حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل أبو سَلَمة، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس قال: لمّا نُفِخَ في آدمَ الرُّوحُ فبلغَ الخياشيمَ عَطَسَ، فقال: الحمدُ لله ربَّ العالمين، فقال ﵎: يَرحمُك الله (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، وإن كان موقوفًا، فإنَّ إسناده صحيح بمرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7682 - صحيح على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدم علیہ السلام میں روح پھونکی گئی، وہ روح آپ کے ناک تک پہنچی تو آپ کو چھینک آئی، آپ نے الحمد اللہ رب العالمین کہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کہا یرحمک اللہ (یعنی اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ سند اگرچہ موقوف ہے لیکن مرہ کے واسطے سے اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7875]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں