المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ .
بے شک اللہ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 7876
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد الحنظلي بقَنْطرةِ بَرَدانَ، حَدَّثَنَا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، عن النَّبِيِّ ﷺ قال:"إنَّ الله تعالى يُحِبُّ العُطَاسَ ويكرهُ التثاؤبَ، فإذا عَطَسَ أحدُكم فقال: الحمدُ لله، فحقٌّ على كلِّ مَن سَمِعَ أن يُشمِّتَه، يقول: يرحمُك الله، والتثاؤبُ من الشيطان، فإذا تثاءَبَ أحدُكم فليردَّه ما استطاعَ، فإِنَّ أحدكم إذا تثاءبَ فقال: ها ها، يَضحكُ منه الشيطان" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7683 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7683 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہے تو ہر وہ شخص جو اسے سنے اس پر یہ حق ہے کہ وہ اس کا جواب (تشمیت) دے اور «يَرْحَمُكَ اللهُ» کہے، جبکہ جمائی شیطان کی طرف سے ہے، پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتے ہوئے ”ہا ہا“ کی آواز نکالتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7876]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذ إسناد قوي» [ترقيم الرساله 7876] [ترقيم الشركة 7782] [ترقيم العلميه 7683]
الحكم على الحديث: حديث صحيح