المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ كَفَّيْهِ عَلَى وَجْهِهِ .
جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اپنی ہتھیلیاں چہرے پر رکھ لے
حدیث نمبر: 7876
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد الحنظلي بقَنْطرةِ بَرَدانَ، حَدَّثَنَا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، عن النَّبِيِّ ﷺ قال:"إنَّ الله تعالى يُحِبُّ العُطَاسَ ويكرهُ التثاؤبَ، فإذا عَطَسَ أحدُكم فقال: الحمدُ لله، فحقٌّ على كلِّ مَن سَمِعَ أن يُشمِّتَه، يقول: يرحمُك الله، والتثاؤبُ من الشيطان، فإذا تثاءَبَ أحدُكم فليردَّه ما استطاعَ، فإِنَّ أحدكم إذا تثاءبَ فقال: ها ها، يَضحكُ منه الشيطان" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7683 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7683 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جماہی کو ناپسند کرتا ہے، جب کسی کو چھینک آئے تو وہ ” الحمد للہ “ کہے۔ اور جو اس کو سنے، اس پر حق ہے کہ اس کو یوں جواب دے ” یرحمک اللہ “۔ جماہی شیطان کی جانب سے ہوتی ہے اور جب کسی کو جماہی آئے تو وہ اس کو حتی الامکان روکنے کی کوشش کرے۔ اس لیے کہ جب کسی کو جماہی آتی ہے تو شیطان خوش ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7876]