🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. أَشْرَفُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةُ .
معزز ترین مجلس وہ ہے جس میں قبلہ رخ بیٹھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7899
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا محمد بن معاوية، حَدَّثَنَا مُصادِف بن زياد المَديني - قال: وأثنى عليه خيرًا - قال: سمعتُ محمد بن كعب القُرَظي يقول: لقيتُ عمرَ بنَ عبد العزيز بالمدينة في شَبابِه وجَمالِهِ وغَضَارتِه، قال: فلمَّا استُخلِفَ قدمتُ عليه فاستأذنتُ عليه، فأَذِنَ لي، فجعلتُ أُحِدُّ النَّظر إليه، فقال لي: يا ابنَ كعب، ما لي أَراك تُحِدُّ النظرَ؟ قلت: يا أميرَ المؤمنين، لِما أرى من تغيُّر لونِك ونُحُول جسمِك وتَعَارِ شَعْرِك، فقال: يا ابنَ كعب، فكيف ولو رأيتَني بعدَ ثلاثٍ في قبري وقد انتَزَعَ النملُ مُقلتَيَّ وسالَتا على خدَّيَّ، وابْتَدَر مَنْخِرايَ وفمي صَديدًا؟! لكنتَ لي أشدَّ إنكارًا، دعْ ذاك، أعِدْ عليَّ حديثَ ابن عباس عن رسول الله ﷺ. فقلتُ: قال ابن عَبَّاس: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ لكلّ شيء شَرَفًا، وإنَّ أشرفَ المجالس ما استُقبِلَ به القِبلةُ، وإنكم تَجالَسُون بينكم بالأَمانةِ. واقتلوا الحيَّةَ والعقربَ وإن كنتُم في صلاتِكم. ولا تَسْتُروا جُدُرَكم. ولا يَنظُرْ أحدٌ منكم في كتاب أخيه إلَّا بإذنِه. ولا يُصلِّيَنَّ أحدٌ منكم وراءَ نائمٍ ولا مُحدِّث". قال: وسُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن أفضلِ الأعمال إلى الله تعالى، فقال:"مَن أدخلَ على مؤمن سُرورًا، إمَّا أطعمَه من جوع، وإما قَضَى عنه دينًا، وإما يُنفِّسُ عنه كُربةً من كُرَب الدنيا نَفَّس الله عنه كُرَبَ الآخرة، ومَن أَنظَرَ مُوسِرًا أو تجاوزَ عن مُعسِر، أظلَّه الله يومَ لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّه، ومَن مشى مع أخيه في ناحيةِ القرية ليثبِّتَ حاجتَه، ثبَّتَ اللهُ ﷿ قَدَمَه يومَ تزولُ (1) الأقدامُ، ولأن يمشيَ أحدُكم مع أخيه في قضاءِ حاجتِه - وأشارَ بإصبعِه - أفضلُ من أن يَعتكِفَ في مسجدي هذا شهرَينِ"،"ألا أُخبِرُكم بشِرارِكم؟" قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"الذي يَنزِلُ وحدَه، ويَمنعُ رِفْدَه، ويَجلِدُ عبدَه" (2) . ولهذا الحديث إسناد آخر بزيادة أحرُف فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7706 - بطل الحديث
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے مدینہ میں ان کی جوانی، خوبصورتی اور شادابی کے دور میں ملا تھا، پھر جب وہ خلیفہ بنے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، انہوں نے مجھے اجازت دے دی، تو میں نے انہیں بڑے غور سے دیکھنا شروع کر دیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: اے ابن کعب! کیا بات ہے تم مجھے اتنے غور سے کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ کے بدلے ہوئے رنگ، نحیف جسم اور بکھرے ہوئے بالوں کو دیکھ کر حیران ہوں، تو انہوں نے فرمایا: اے ابن کعب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم مجھے قبر میں تین دن گزرنے کے بعد دیکھو گے جبکہ چیونٹیاں میری آنکھوں کی پتلیاں نکال چکی ہوں گی اور وہ میرے گالوں پر بہہ رہی ہوں گی، اور میرے نتھنوں اور منہ سے پیپ نکل رہی ہوگی؟! اس وقت تو تم مجھے پہچاننے سے بالکل انکار کر دو گے، خیر یہ باتیں چھوڑو، مجھے ابن عباس کی وہ حدیث دوبارہ سناؤ جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی، تو میں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ہر چیز کی ایک بلندی ہوتی ہے، اور مجلسوں میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جس میں قبلہ رخ بیٹھا جائے، اور تمہاری آپس کی مجلسیں امانت کے ساتھ ہونی چاہئیں، اور سانپ اور بچھو کو مار دیا کرو خواہ تم نماز ہی میں کیوں نہ ہو، اور اپنی دیواروں کو (کپڑوں وغیرہ سے) مت ڈھانکو، اور تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تحریر میں اس کی اجازت کے بغیر نہ دیکھے، اور تم میں سے کوئی کسی سونے والے یا باتیں کرنے والے کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین اعمال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مومن کو خوشی پہنچائی، خواہ اسے بھوک میں کھانا کھلایا، یا اس کا قرض ادا کیا، یا اس کی دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی تکلیفیں دور فرمائے گا، اور جس نے کسی آسودہ حال کو مہلت دی یا کسی تنگ دست سے درگزر کیا تو اللہ اسے اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بستی کے ایک گوشے تک اس کے ساتھ چلا تو اللہ عزوجل اس دن اس کے قدموں کو ثابت قدم رکھے گا جس دن قدم ڈگمگا رہے ہوں گے، اور تم میں سے کسی کا اپنے بھائی کی حاجت روائی کے لیے چلنا - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا - میری اس مسجد میں دو ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے، (پھر فرمایا): کیا میں تمہیں تمہارے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: وہ جو اکیلا پڑاؤ ڈالے، کسی کی مدد نہ کرے اور اپنے غلام کو مارے۔
اس حدیث کی ایک اور سند بھی ہے جس میں کچھ حروف کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7899]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، محمد بن معاوية» [ترقيم الرساله 7899] [ترقيم الشركة 7805] [ترقيم العلميه 7706]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں