🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. لا تتكلموا بالحكمة عند الجاهل .
جاہل کے سامنے حکمت کی باتیں نہ کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7899
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا محمد بن معاوية، حَدَّثَنَا مُصادِف بن زياد المَديني - قال: وأثنى عليه خيرًا - قال: سمعتُ محمد بن كعب القُرَظي يقول: لقيتُ عمرَ بنَ عبد العزيز بالمدينة في شَبابِه وجَمالِهِ وغَضَارتِه، قال: فلمَّا استُخلِفَ قدمتُ عليه فاستأذنتُ عليه، فأَذِنَ لي، فجعلتُ أُحِدُّ النَّظر إليه، فقال لي: يا ابنَ كعب، ما لي أَراك تُحِدُّ النظرَ؟ قلت: يا أميرَ المؤمنين، لِما أرى من تغيُّر لونِك ونُحُول جسمِك وتَعَارِ شَعْرِك، فقال: يا ابنَ كعب، فكيف ولو رأيتَني بعدَ ثلاثٍ في قبري وقد انتَزَعَ النملُ مُقلتَيَّ وسالَتا على خدَّيَّ، وابْتَدَر مَنْخِرايَ وفمي صَديدًا؟! لكنتَ لي أشدَّ إنكارًا، دعْ ذاك، أعِدْ عليَّ حديثَ ابن عباس عن رسول الله ﷺ. فقلتُ: قال ابن عَبَّاس: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ لكلّ شيء شَرَفًا، وإنَّ أشرفَ المجالس ما استُقبِلَ به القِبلةُ، وإنكم تَجالَسُون بينكم بالأَمانةِ. واقتلوا الحيَّةَ والعقربَ وإن كنتُم في صلاتِكم. ولا تَسْتُروا جُدُرَكم. ولا يَنظُرْ أحدٌ منكم في كتاب أخيه إلَّا بإذنِه. ولا يُصلِّيَنَّ أحدٌ منكم وراءَ نائمٍ ولا مُحدِّث". قال: وسُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن أفضلِ الأعمال إلى الله تعالى، فقال:"مَن أدخلَ على مؤمن سُرورًا، إمَّا أطعمَه من جوع، وإما قَضَى عنه دينًا، وإما يُنفِّسُ عنه كُربةً من كُرَب الدنيا نَفَّس الله عنه كُرَبَ الآخرة، ومَن أَنظَرَ مُوسِرًا أو تجاوزَ عن مُعسِر، أظلَّه الله يومَ لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّه، ومَن مشى مع أخيه في ناحيةِ القرية ليثبِّتَ حاجتَه، ثبَّتَ اللهُ ﷿ قَدَمَه يومَ تزولُ (1) الأقدامُ، ولأن يمشيَ أحدُكم مع أخيه في قضاءِ حاجتِه - وأشارَ بإصبعِه - أفضلُ من أن يَعتكِفَ في مسجدي هذا شهرَينِ"،"ألا أُخبِرُكم بشِرارِكم؟" قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"الذي يَنزِلُ وحدَه، ويَمنعُ رِفْدَه، ويَجلِدُ عبدَه" (2) . ولهذا الحديث إسناد آخر بزيادة أحرُف فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7706 - بطل الحديث
محمد بن کعب القرظی فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز سے مدینہ منورہ میں ملا، وہ اس وقت خوبصورت نوجوان تھے۔ آپ فرماتے ہیں: جب ان کو خلیفہ بنایا گیا تو میں ان کے پاس گیا، میں نے ان کے پاس جانے کی اجازت مانگی، مجھے اجازت مل گئی، میں ان کو بہت گھور کر دیکھنے لگ گیا، انہوں نے پوچھا: اے ابن کعب! کیا وجہ ہے؟ تم مجھے اس طرح گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: اس لیے کہ اے امیرالمومنین! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کا رنگ بدل چکا ہے، آپ کا جسم کمزور ہو چکا ہے، اور آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا: اے ابن کعب! اس وقت کیفیت کیا ہو گی، جب تم مجھے تین دن کے بعد قبر میں دیکھو گے، چیونٹیاں میری آنکھوں کی پتلیوں کو نکال چکی ہوں گی، اور وہ میرے رخساروں پر بہہ چکی ہوں گی، اور میرا حلق اور منہ پیپ سے بھر گیا ہو گا، تب تو تم اس سے بھی زیادہ مجھ سے نفرت کرو گے۔ تم وہ بات چھوڑ دو، تم مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہوئی حدیث سناؤ، میں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر چیز کا ایک ادب ہوتا ہے، اور بیٹھنے کا ادب یہ ہے کہ قبلہ کی جانب رخ کر کے بیٹھا جائے اور تم اپنے درمیان امانت کے ساتھ بیٹھو۔ اور سانپ اور بچھو کو مار ڈالو، اگرچہ تم نماز پڑھ رہے ہو، اپنی دیواروں پر پردے مت لٹکاؤ، کوئی شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر نہ پڑھے۔ کوئی شخص سوئے ہوئے آدمی کے پیچھے اور بے وضو کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ آپ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ آپ نے فرمایا: کسی مومن کو خوشی دینا، چاہے کھانا کھلا کر اس کی بھوک ختم کرے، یا اس کی جانب سے اس کا قرضہ ادا کر کے، یا اس کی کوئی دنیاوی پریشانی دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی پریشانی دور کرے گا۔ جو شخص کسی فراخ دست کو مہلت دے گا یا تنگ دست کا قرضہ معاف کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس دن سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن کوئی سایہ نہ ہو گا۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے ہمراہ چل کر شہرے کے کنارے تک جائے گا، اللہ تعالیٰ اس دن اس کو ثابت قدم رکھے گا جس دن لوگوں کے قدم پھسل رہے ہوں گے۔ اور یہ کہ کسی مسلمان کے کام کے لیے اس کے ساتھ جانا میری اس مسجد میں دو ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے شریر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اکیلا رہتا ہو، اپنے عطیات کو روکتا ہو اور اپنے غلام کو مارتا ہو۔ اس حدیث کی اور اسناد بھی ہے اور اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7899]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7899 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (م): تزلّ.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ 'م' میں لفظ "تزلّ" (لغزش کھانا/پھسلنا) مروی ہے۔
(2) إسناده تالف، محمد بن معاوية - وهو ابن أَعين النيسابوري - متَّهم بالكذب، ومصادف بن زياد قال أبو حاتم: مجهول، ولم نقف عليه من هذا الطريق عند غير المصنّف. وله طريق آخر يأتي بعده مع الكلام عليه، فانظره.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'تالف' (انتہائی کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن معاویہ (ابن اعین النیسابوری) جھوٹ کے ساتھ متہم ہے، اور مصادف بن زیاد کے بارے میں ابو حاتم نے کہا ہے کہ وہ 'مجہول' (نا معلوم) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ روایت اس طریق سے صرف مصنف (امام حاکم) کے ہاں ملی ہے، البتہ اس کا ایک اور طریق آگے آ رہا ہے جس پر کلام وہیں کیا گیا ہے۔