المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. لَا تَتَكَلَّمُوا بِالْحِكْمَةِ عِنْدَ الْجَاهِلِ .
جاہل کے سامنے حکمت کی باتیں نہ کرو
حدیث نمبر: 7900
سمعتُ أبا سعيد الخليلَ بن أحمد القاضي، في دار الأمير السَّديد أبي صالح منصور بن نوح بحَضْرته يصيحُ برواية هذا الحديث، فقال: حَدَّثَنَا أبو القاسم بن محمد البَغَوي، حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمد العَيْشي، حَدَّثَنَا أبو المِقْدام هشام بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن كعب القُرَظي، قال: شهدتُ عمر بن عبد العزيز وهو أميرٌ علينا بالمدينة للوليد بن عبد الملك، وهو شابٌّ غليظٌ ممتلئُ الجِسم، فلما استُخلِفَ أتيتُه بخُناصِرةَ، فدخلتُ عليه وقد قاسَى ما قاسَى، فإذا هو قد تغيَّرتْ حالتُه عمَّا كان، ثم ذكر الحديث … وزاد فيه:"ومَن نظَر في كتاب أخيه بغير إذنِه، فكأنما ينظُرُ في النار، ومن أحبَّ أن يكون أقوى الناس، فليتوكَّلْ على الله، ومَن أحبَّ أن يكون أكرمَ الناس، فليتقِ الله ﷿، ومن أحبَّ أن يكون أغنَى الناس، فليكُنْ بما في يدِ الله أوثقَ مِمَّا في يده". وقال:"أفأنبِّئُكم بشَرٍّ من هذا؟" قالوا نعم يا رسولَ الله، قال:"مَن لا يُقِيلُ عَثْرَةً، ولا يَقبلُ معذرةً، ولا يَغفِرُ ذنبًا. أفأنبِّئُكم بشَرٍّ من هذا؟" قالوا: نعم يا رسولَ الله، قال:"مَن لا يُرجَى خيرُه، ولا يُؤْمَنُ شرُّه. إنَّ عيسى ابنَ مريمَ صلواتُ الله عليه قامَ في بني إسرائيلَ، فقال: يا بني إسرائيلَ، لا تتكلَّموا بالحِكْمة عند الجاهل فتَظلِموها، ولا تَمنعُوها أهلَها فَتَظْلِمُوهم، ولا تَظلِمُوا ظالمًا، ولا تُكافِئُوا ظالمًا فيبطُلَ فَضْلُكم عند ربِّكم. يا بني إسرائيل، الأمرُ ثلاث: أمرٌ تبيَّنَ غَيُّه فاجتنِبُوه، وأمرٌ اختُلِفَ فيه فردُّوه إلى الله ﷿ (1) " (2)
هذا حديث صحيح قد اتَّفق هشام بن زياد البَصْري ومُصادِف بن زياد المَدِيني على روايته عن محمد بن كعب القرظي، والله أعلم. ولم أَستجِزُ إخلاءَ هذا الموضع منه، فقد جمع آدابًا كثيرة.
هذا حديث صحيح قد اتَّفق هشام بن زياد البَصْري ومُصادِف بن زياد المَدِيني على روايته عن محمد بن كعب القرظي، والله أعلم. ولم أَستجِزُ إخلاءَ هذا الموضع منه، فقد جمع آدابًا كثيرة.
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے اس وقت ملا جب وہ ولید بن عبدالملک کی طرف سے مدینہ کے گورنر تھے، وہ ایک مضبوط جسم کے کڑیل جوان تھے، پھر جب وہ خلیفہ بنے تو میں خناصرہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کی حالت پہلے سے بالکل بدل چکی تھی، پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور جو شخص اپنے بھائی کی کتاب (تحریر) میں اس کی اجازت کے بغیر دیکھے تو گویا وہ آگ میں دیکھ رہا ہے، اور جو یہ چاہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ طاقتور بن جائے تو اسے اللہ پر توکل کرنا چاہیے، اور جو یہ چاہے کہ وہ سب سے زیادہ معزز بن جائے تو اسے اللہ عزوجل سے ڈرنا چاہیے، اور جو یہ چاہے کہ وہ سب سے زیادہ غنی ہو جائے تو اسے اپنے ہاتھ میں موجود چیز کے مقابلے میں اللہ کے ہاتھ میں موجود خزانے پر زیادہ بھروسہ کرنا چاہیے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”وہ شخص جو کسی کی لغزش کو معاف نہ کرے، کسی کا عذر قبول نہ کرے اور کسی کا گناہ معاف نہ کرے۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”وہ شخص جس سے کسی خیر کی امید نہ ہو اور جس کے شر سے کوئی محفوظ نہ ہو۔ بے شک عیسیٰ ابن مریم صلوات اللہ علیہ نے بنی اسرائیل میں کھڑے ہو کر فرمایا: اے بنی اسرائیل! نادان کے سامنے حکمت کی بات نہ کرو ورنہ تم اس حکمت پر ظلم کرو گے، اور اہل حکمت سے اسے نہ روکو ورنہ تم ان لوگوں پر ظلم کرو گے، اور کسی ظالم پر زیادتی کر کے ظلم نہ کرو، اور نہ ہی کسی ظالم کا برا بدلہ اس طرح چکاؤ کہ تمہاری فضیلت تمہارے رب کے پاس ختم ہو جائے۔ اے بنی اسرائیل! معاملات تین طرح کے ہیں: ایک وہ معاملہ جس کی ہدایت واضح ہو تو اس کی پیروی کرو، ایک وہ جس کی گمراہی واضح ہو تو اس سے بچو، اور ایک وہ معاملہ جس میں اختلاف ہو تو اسے اللہ عزوجل کے سپرد کر دو۔“
یہ حدیث صحیح ہے، ہشام بن زیاد بصری اور مصادف بن زیاد مدینی دونوں نے اسے محمد بن کعب قرظی سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، واللہ اعلم۔ میں نے اس جگہ کو اس حدیث سے خالی رکھنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اس میں بہت سے آداب جمع کر دیے گئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7900]
یہ حدیث صحیح ہے، ہشام بن زیاد بصری اور مصادف بن زیاد مدینی دونوں نے اسے محمد بن کعب قرظی سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، واللہ اعلم۔ میں نے اس جگہ کو اس حدیث سے خالی رکھنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اس میں بہت سے آداب جمع کر دیے گئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7900]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل هشام بن زياد أبي المقدام، وهشام لم يسمعه من محمد بن كعب القرظي، بينهما رجل مجهول، فقد قال مسلم في مقدمة "صحيحه": سمعت الحسن بن علي الحلواني يقول: رأيت في كتاب عفّان حديثَ هشام أبي المقدام: حديثُ عمر بن عبد العزيز، قال هشام: حدثني رجل ...» [ترقيم الرساله 7900] [ترقيم الشركة 7806]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا