🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. النَوْمَةُ التِي يَكْرَهُهَا اللَّهُ .
وہ نیند جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7900
سمعتُ أبا سعيد الخليلَ بن أحمد القاضي، في دار الأمير السَّديد أبي صالح منصور بن نوح بحَضْرته يصيحُ برواية هذا الحديث، فقال: حَدَّثَنَا أبو القاسم بن محمد البَغَوي، حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمد العَيْشي، حَدَّثَنَا أبو المِقْدام هشام بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن كعب القُرَظي، قال: شهدتُ عمر بن عبد العزيز وهو أميرٌ علينا بالمدينة للوليد بن عبد الملك، وهو شابٌّ غليظٌ ممتلئُ الجِسم، فلما استُخلِفَ أتيتُه بخُناصِرةَ، فدخلتُ عليه وقد قاسَى ما قاسَى، فإذا هو قد تغيَّرتْ حالتُه عمَّا كان، ثم ذكر الحديث … وزاد فيه:"ومَن نظَر في كتاب أخيه بغير إذنِه، فكأنما ينظُرُ في النار، ومن أحبَّ أن يكون أقوى الناس، فليتوكَّلْ على الله، ومَن أحبَّ أن يكون أكرمَ الناس، فليتقِ الله ﷿، ومن أحبَّ أن يكون أغنَى الناس، فليكُنْ بما في يدِ الله أوثقَ مِمَّا في يده". وقال:"أفأنبِّئُكم بشَرٍّ من هذا؟" قالوا نعم يا رسولَ الله، قال:"مَن لا يُقِيلُ عَثْرَةً، ولا يَقبلُ معذرةً، ولا يَغفِرُ ذنبًا. أفأنبِّئُكم بشَرٍّ من هذا؟" قالوا: نعم يا رسولَ الله، قال:"مَن لا يُرجَى خيرُه، ولا يُؤْمَنُ شرُّه. إنَّ عيسى ابنَ مريمَ صلواتُ الله عليه قامَ في بني إسرائيلَ، فقال: يا بني إسرائيلَ، لا تتكلَّموا بالحِكْمة عند الجاهل فتَظلِموها، ولا تَمنعُوها أهلَها فَتَظْلِمُوهم، ولا تَظلِمُوا ظالمًا، ولا تُكافِئُوا ظالمًا فيبطُلَ فَضْلُكم عند ربِّكم. يا بني إسرائيل، الأمرُ ثلاث: أمرٌ تبيَّنَ غَيُّه فاجتنِبُوه، وأمرٌ اختُلِفَ فيه فردُّوه إلى الله ﷿ (1) " (2)
هذا حديث صحيح قد اتَّفق هشام بن زياد البَصْري ومُصادِف بن زياد المَدِيني على روايته عن محمد بن كعب القرظي، والله أعلم. ولم أَستجِزُ إخلاءَ هذا الموضع منه، فقد جمع آدابًا كثيرة.
محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ ولید بن عبدالملک کی جانب سے مدینہ منورہ پر ہمارے عامل تھے۔ آپ طاقتور، اور مضبوط جسم والے نوجوان تھے، ان کے خلیفہ بننے کے بعد میں ان کے پاس خناصرہ (جو کہ سرزمین حمص کے قریب ہے) میں آیا۔ میں ان کے پاس پہنچا، یہ میرے بارے بہت ساری قیاس آرائیاں کر چکے تھے۔ ان کی حالت پہلے سے بہت تبدیل ہو چکی تھی، اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے خط کی طرف اس کی اجازت کے بغیر دیکھا، گویا کہ اس نے دوزخ کو دیکھا ہے، اور جو شخص سب سے زیادہ طاقتور بننا چاہتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرے، اور جو سب سے زیادہ باعزت ہونا چاہتا ہے، اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ اور جو شخص سب سے زیادہ غنی ہونا چاہتا ہے، اس کو چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر زیادہ بھروسہ کرے، اور جو کچھ اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اس پر کم بھروسہ کرے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے شریر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو فسخ بیع (کے مطالبے پر بیع فسخ) نہیں کرتا۔ اور جو معذرت قبول نہیں کرتا۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ شریر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے بھلائی کی امید نہ کی جاتی ہو اور جس کے شر سے امن نہ ہو۔ بے شک سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے ہوئے، اور فرمایا: اے بنی اسرائیل! جاہل کے پاس حکمت کی بات مت کرو۔ ورنہ تم ظلم کرو گے، اور اہل لوگوں سے حکمت کی بات روک کر نہ رکھو ورنہ تم ظلم کرو گے، ظالم پر ظلم مت کرو، اور نہ ظلم کا بدلہ ظلم سے دو، ورنہ تمہارے رب کے ہاں تمہاری قدر و منزلت گر جائے گی، اے بنی اسرائیل اصل باتیں تین ہیں۔ ایک وہ معاملہ جس کی کھوٹ واضح ہو، اس سے بچ کر رہو۔ ایک وہ معاملہ جس میں اختلاف ہو، اس کو اللہ کے سپرد کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے۔ ہشام بن زیادہ نصری اور مصادف بن زیاد المدنی نے محمد بن کعب قرظی سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ واللہ اعلم۔ مجھے اچھا نہیں لگا کہ اس مقام کو اس سے خالی رکھوں اس لیے میں نے بہت سارے آداب جمع کر دئیے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7900]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7901
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثني أبي حَدَّثَنَا الأوزاعي، أخبرني يحيى بن أبي كَثير (1) ، عن محمد ابن إبراهيم، عن قيس الغِفاري، عن أبيه قال: أتانا رسولُ الله ﷺ ونحن في الصُّفَّة بعد المغرب، فقال:"يا فلانُ انطلِقُ مع فلان، ويا فلانُ انطلِقْ مع فلان" حتَّى بقيتُ في خمسة أنا خامسُهم، فقال:"قُوموا معي (1) "ففعلنا فدخَلْنا على عائشةَ وذلك قبل أن ينزِلَ الحجابُ، فقال:"يا عائشةُ، أطعِمينا"، فقرَّبَتْ جَشِيشةً، ثم قال:"يا عائشةُ، أطعِمِينا" فقرَّبَتْ حَيْسًا مثل القَطَاة، ثم قال:"يا عائشةُ، اسقِينا" فجاءت بعُسٍّ، ثم قال:"إنْ شِئتُم نِمتُم عندنا، وإنْ شِئتُم انجَلَيتُم إلى المسجد فنِمتُم فيه". قال: فنِمْنا في المسجد، فأتاني النَّبِيُّ ﷺ في آخرِ الليل، فأصابَني نائمًا على بَطْني، فَرَكَضَني برِجلِه، وقال:"ما لك وهذه النَّومةَ؟ هذه نَومةٌ يكرهُها الله - أو يُبغِضُها الله -" (2) .
هذا حديث مختَلفٌ في إسناده على يحيى بن أبي كثير، وآخره أنَّ الصواب قيس بن طِخْفة الغِفاري. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
قیس غفاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ مغرب کے بعد ہم لوگ صفہ میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور کچھ اصحاب صفہ کو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ (کھانا کھانے کے لیے) بھیج دیا، ہم پانچ لوگ بچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: تم لوگ میرے ساتھ چلو، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل دیئے، ہم ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، یہ واقعہ پردے کے احکام نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں کچھ کھلاؤ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حشیشہ (مخصوص کھانا، جو آٹے کو پکا کر اس میں گوشت یا کھجوریں وغیرہ ڈال کر بنایا جاتا ہے) پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں کچھ کھلاؤ، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ایک کبوتر جتنا حیس (ایک قسم کا کھانا جو گھی ستو اور جو سے تیار کیا جاتا ہے) پیش کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہمیں کچھ پلاؤ، ام المومنین نے ایک پیالے میں پانی پیش کیا، یہ پینے کے بعد۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اب تم سونا چاہو تو یہاں سو جاؤ، اور مسجد میں جانا چاہو تو وہاں جا کر سو جاؤ، راوی کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد میں آ کر سو گئے، رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں پیٹ کے بل الٹا سویا ہوا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پاؤں کی ٹھوکر مار کر جگایا اور فرمایا: تم اس طرح کیوں سوئے ہوئے ہو؟ اس انداز میں سونا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ ٭٭ اس حدیث کی اسناد میں یحیی بن ابی کثیر پر اختلاف ہے۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ قیس بن طخفہ غفاری درست ہیں۔ اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7901]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7902
حَدَّثَنَا أبو زكريا العَنْبري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أن النَّبِيّ ﷺ مَرَّ برجلٍ مُضطجِعٍ على بَطْنِه، فضربه برجله وقال:"إنَّها ضِجْعةٌ لا يحبُّها الله ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7709 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے آدمی کے پاس سے ہوا جو کہ پیٹ کے بل سویا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کی ٹھوکر مار کر اس کو جگایا اور فرمایا: اس انداز میں لیٹنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7902]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7903
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا هِشام بن علي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَجَاء، حَدَّثَنَا همَّام، عن (1) قَتَادة، عن كَثير بن أبي كَثير، عن أبي عِيَاض، عن أبي هريرة قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ أن يَجْلِسَ الرجلُ بين الشمسِ والظِّلِّ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7710 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور چھاؤں کے درمیان میں بیٹھنے سے منع فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7903]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7904
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حَدَّثَنَا مِنْجاب بن الحارث، حَدَّثَنَا علي بن مُسهِر، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن أبيه قال: رآني النَّبِيُّ ﷺ وأنا قاعدٌ في الشمس، فقال:"تحوّل إلى الظلِّ فإنه مبارَكٌ" (1) .
قیس بن ابی حازم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، میں دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سائے میں چلے جاؤ، کیونکہ وہ برکت والا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7904]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں