🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ (وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ) .
آیت "اور تم اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو" کے شانِ نزول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7953
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا خالد بن عبد الرحمن، حدثنا حَبيب بن سُلَيم، عن عمر بن مُسلِم قال: خَذَفَ رجلٌ عند ابن عمر، فقال: لا تَخذِفْ، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يَنهَى عن الخَذْف، ثم رآه ابن عمر بعد ذلك يَخذِفُ، فقال: أنبأتُك أنَّ النبيَّ ﷺ يَنهَى عَن الخَذْف ثم خَذَفَتَ؟! والله لا أُكلِّمُك كلمةً أبدًا (2) .
سیدنا عمرو بن مسلم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس کسی نے خذف (یعنی اس نے اپنی انگلیوں کے ساتھ کنکری ماری) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کرو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خذف (کنکریاں مارنے) سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آدمی کو خذف (کنکریاں مارتے) ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: میں نے تجھے بتایا بھی تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل سے منع کیا ہے اس کے باوجود تو نے یہ عمل کیا ہے، اب میں تجھ سے کبھی بھی بات نہیں کروں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7953]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7954
حدثنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر.... [عن عبد الله بن بكر] الشَّهمي (1) ، حدثنا أبو يونس حاتم بن أبي صَغِيرة، عن سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح مولى أم هانئ، عن أم هانئ: أنها سألت رسولَ الله ﷺ قالت: قلتُ: يا رسولَ الله، أرأيتَ قول الله ﵎: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ [العنكبوت: 29] ، ما كان ذلك المنكر الذي كانوا يأتونه؟ قال:"كانوا يَسْخرُون بأهل الطريقِ ويَخْذِفُونهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7761 - صحيح
سیدہ ام ہانی کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ (العنكبوت: 29) میں کون سے گناہ کی بات کی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ راہگیروں سے مذاق کرتے تھے اور ان کو کنکریاں مارا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7954]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7955
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم، عن عطاء بن يَسَار، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله:"إذا سمعتُم نُبَاحَ الكلابِ ونَهِيقَ الحميرِ من الليل، فتعوَّذُوا بالله من الشيطان الرَّجيم، فإِنَّها تَرَى ما لا تَرَون، وأقِلُّوا الخروجَ إذا هَدَأَت (3) [الرَّجلُ] فإنَّ الله تعالى يَبُثُّ في ليلِه (4) من خلقِه ما شاء، وأَجِيفوا الأبوابَ، واذكرُوا اسمَ الله عليها، فإنَّ الشيطانَ لا يفتحُ بابًا أُجِيفَ وذُكِرَ اسمُ الله عليه، وأَوكِئوا الأسقية، وغطُّوا الجِرارَ، وأكفئوا الآنية" (5) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7762 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم رات کے وقت کتے کے بھونکنے کی یا گدھے کے چیخنے کی آواز سنو تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھو، کیونکہ یہ مخلوق وہ کچھ دیکھتی ہے جو تم نہیں دیکھ سکتے، اور رات کے وقت گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بہت ساری مخلوق کو پھیلا دیتا ہے، اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کر دیا کرو، کیونکہ شیطان، وہ دروازہ نہیں کھول سکتا جس کو اللہ کا نام لے کر بند کیا گیا ہو، مشکیزے کا منہ باندھ دیا کرو، اور مٹکے کو ڈھانپ دیا کرو، اور برتنوں کو الٹا کر دیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7955]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں