المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. الدُّعَاءُ عِنْدَ اسْتِمَاعِ صَوْتِ الرَّعْدِ .
رعد (بجلی کی کڑک) سنتے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 7964
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان، حدثنا حمّاد بن سلمة، عن عبد الملك بن عُمير، عن موسى ابن طلحة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُكثِرُ ذِكرَ خديجةَ، فقلتُ: لقد أخلَفَك الله - وربما قال حماد: أعقبَك الله - من عجوزٍ من عجائز قريشٍ حمراءِ الشِّدقينِ، هَلَكَت في الدَّهر الأول، قالت: فتَمَعَّر وجهُه تمعُّرًا ما كنتُ أراه إلا عند نزول الوحي، وإذا رأى مَخِيلةَ الرَّعد والبرق حتى يَعلَم أرحمةٌ هي أم عذابٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7771 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7771 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اکثر یاد کیا کرتے تھے میں نے کہا: قریش کی ایک بوڑھی خاتون کے وفات پانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک خوبصورت دوشیزہ سے نوازا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے آثار نمودار ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت نزول وحی کے وقت ہوا کرتی تھی، یا اس وقت ہوتی تھی جب رعد و باراں ہوتی، جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم نہ ہو جاتا کہ یہ رعد اور برسات رحمت کی ہے یا عذاب کی ہے اس وقت تک آپ کی کیفیت بدستور وہی رہتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7964]