المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. الْأَنْبِيَاءُ أَشَدُّ بَلَاءً ثُمَّ الصَّالِحُونَ
انبیاء علیہم السلام پر سب سے سخت آزمائش آتی ہے، پھر نیک لوگوں پر
حدیث نمبر: 8044
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي سَعْدَوَيهِ، حدثنا زكريا بن منظور بن ثَعلَبة بن أبي مالك، حدثنا أبو حازم، عن سهل بن سعد قال: مرَّ رسول الله ﷺ بذي الحُلَيفة، فرأى شاةً شائلةً برِجْلها، فقال:"أترَوْنَ هذه الشاةَ هيِّنةً على صاحبِها؟ قالوا: نعم، قال:"والذي نفسي بيده، لَلدُّنيا أهون على الله من هذه على صاحبِها، ولو كانت الدنيا تعدِلُ عند الله جناحَ بَعْوضةٍ ما سَقَى كافرًا منها شَرْبةَ ماء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7847 - زكريا بن منظور ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7847 - زكريا بن منظور ضعفوه
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحلیفہ سے گزر رہے تھے، آپ نے راستے میں ایک بکری مری ہوئی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، یہ بکری اپنے مالک کی نگاہ میں حقیر ہے یا نہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جتنی یہ بکری اپنے مالک کے لیے حقیر ہے، اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ساری دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس دنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8044]
حدیث نمبر: 8045
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا بشر بن موسى، حدثنا خالد بن خِدَاش بن عَجْلان المُهلَّبي، حدثنا عبد الله بن وهب، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: دخلتُ على النبيِّ ﷺ وهو محمومٌ، فوضعت يدي من فوقَ القَطِيفة، فوجدتُ حرارةَ الحُمَّى، فقلت: ما أَشدَّ حُمَّاك يا رسولَ الله! قال:"إِنَّا كذاكَ معشرَ الأنبياء، يُضاعَفُ علينا الوجعُ ليُضاعَفَ لنا الأجرُ" قال: فقلتُ: يا رسولَ الله، أيُّ الناس أشدُّ بلاء؟ قال:"الأنبياءُ" قلتُ: ثم مَن؟ قال:"ثمَّ الصالحون، إنْ كان الرجلُ لَيُبتَلى [بالفقر حتى (1) ، ما يجدُ إِلَّا العَبَاءةَ فيَجُوبُها ويَلْبَسُها، وإن كان أحدُهم لَيُبتَلى] بالقَمْل حتى يقتلَه القملُ، وكان ذلك أحبَّ إليهم من العَطاءِ إليكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7848 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7848 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے اوپر اوڑھی ہوئی مخملی چادر کے اوپر رکھا، مجھے اس کے اوپر سے حرارت محسوس ہوئی، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو تو بہت سخت بخار ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء پر اس طرح کی تکالیف دوگنی آتی ہیں، اور ان پر ہمیں اجر بھی دگنا ملتا ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس شخص پر سب سے زیادہ آزمائش آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں پر۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صالحین پر۔ کسی آدمی کو فقر میں اس طرح آزمایا جاتا ہے کہ اس کے پاس صرف ایک ہی چادر ہوتی ہے، وہ اسی کو لپیٹ کر لباس کے طور پر پہنتا ہے، کسی کو جوؤں کے ساتھ آزمایا گیا، حتی کہ جوؤں نے اس کو مار ڈالا۔ اور ان لوگوں کو نعمتوں سے زیادہ یہ آزمائشیں اچھی لگتی تھیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8045]