المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. أَعْلَامُ النُّورِ فِي الصُّدُورِ
سینوں میں نور کی علامتوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8059
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن المغيرة الخُراساني، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أُبيِّ بن كعب، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"بَشِّرْ هذه الأمَّةَ بالسَّناءِ والرِّفعةِ والنَّصرِ والتَّمكينِ في الأرض، ومن عَمِلَ منهم عملَ الآخرةِ للدنيا لم يكن له في الآخرة نصيبٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7862 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7862 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس امت کو بارشوں سے سیرابی، دین کی سربلندی، کامیابی اور زمین پر حکومت کی خوشخبری سنا دو۔ اور جس نے آخرت والا عمل، حصول دنیا کی خاطر کیا، اس کو اخرت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8059]
حدیث نمبر: 8060
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن بِشر بن مَطَر، حدثنا محمد بن جعفر الوَرْكاني، حدثني عَدِيّ بن الفضل، عن عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن القاسم (1) بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن ابن مسعود قال: تَلَا رسولُ الله ﷺ ﴿فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾ [الأنعام: 125] فقال: رسول الله ﷺ:"إنَّ النُّورَ إذا دخل الصدرَ انفَسَحَ" فقيل: يا رسولَ الله، هل لذلك من عَلَمٍ يُعرَفُ؟ قال:"نعم، التَّجافي عن دار الغُرور، والإنابةُ إلى دار الخُلود، والاستعدادُ للموت قبلَ نُزولِه" (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7863 - عدي بن الفضل ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7863 - عدي بن الفضل ساقط
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ” اور اللہ جسے راہ دکھانا چاہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دے “ پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سینے میں نور داخل ہوتا ہے تو سینہ کشادہ ہو جاتا ہے، عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہچاننے کے لیے کوئی نشانی بھی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، دھوکے کے گھر سے بچ کر رہنا، اور ہمیشہ کے گھر کی امید رکھنا اور موت آنے سے پہلے اس کی تیاری کر کے رکھنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8060]
حدیث نمبر: 8061
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن العوَّام بن جُوَيرية، عن الحسن، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"أربعٌ لا يُصَبْنَ إِلَّا بِعَجَب: الصَّمتُ، وهو أولُ العِبادة، والتواضعُ، وذكر الله، وقِلَّةُ الشيء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں پسندیدہ ہیں۔ ٭ خاموشی، یہ سب سے پہلی عبادت ہے۔ ٭ عاجزی۔ ٭ اللہ تعالیٰ کی یاد۔ ٭ اشیاء کی قلت۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بہت سارا گوشت اور ثرید کھا لیا، پھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور مجھے ڈکار آنے لگے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ڈکاروں پر کنٹرول کرو، کیونکہ جو شخص اس دنیا میں جتنا پیٹ بھر کر کھائے گا، قیامت کے دن اتنا ہی بھوکا ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8061]
حدیث نمبر: 8062
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، حدثنا أبو رَبِيعة فَهْد بن عوف، حدثنا عمر بن الفضل الأزدي، عن رَقَبة بن مَسْقَلة، عن علي بن الأقمَر، عن أبي جُحَيفة قال: أكلتُ لحمًا كثيرًا وثَريدًا، ثم جئتُ فقعدتُ حيالَ النبي ﷺ، فجعلتُ أتجشَّأُ، فقال:"أَقصِرْ من جُشَائِكَ، فَإِنَّ أَكثرَ الناس شِبَعًا في الدنيا أكثرُهم جوعًا في الآخرة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
8062 - ابو جحیفہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ: میں نے (ایک بار) خوب گوشت اور ثرید کھایا، پھر میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور مجھے ڈکاریں آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنی ڈکاریں کم کرو، کیونکہ دنیا میں جو لوگ سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں، وہی آخرت میں سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے"۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8062]