🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. مَنِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا حَوَى
جو اللہ سے کما حقہ حیا کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے سر اور اس میں موجود خیالات کی حفاظت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8112
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضر، حدثنا حَرِيز بن عثمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَيْسرة، عن جُبير بن نُفَير، عن بِشر (1) بن جَحَّاش القرشي قال: إنَّ رسولَ الله ﷺ بَزَقَ في كفِّه، ثم وضع عليها إصبَعَه، ثم قال:"يقولُ الله ﵎: يا ابن آدم، تُعجِزُني وقد خلقتُك من مثل هذا، حتى إذا سوَّيتُك وَعَدَلتُك، مشيتَ وجَمَعتَ ومَنَعَتَ، حتى إذا بَلَغَتِ التَّراقيَ قلتَ: أتصدَّقُ، وأنَّى أوَانُ الصَّدقة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7914 - صحيح
بشر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب دہن مبارک رکھا پھر اس پر اپنی انگلی مبارک رکھ کر فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو مجھے عاجز کرتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے ایسی چیز سے پیدا کیا ہے، جب میں نے تجھے ٹھیک ٹھیک بنا دیا، تو چلنے کے قابل ہوا، تو نے مال جمع کرنا شروع کیا اور مانگنے والوں کو تو منع کرتا رہا، حتیٰ کہ جب تیری موت کا وقت قریب آ گیا تو تو صدقہ دینے کے لیے تیار ہو گیا۔ یہ صدقہ کا وقت نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8112]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8113
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله بن محمد إبراهيم العَبْدي، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا مروان بن معاوية، عن أبان بن إسحاق، عن الصَّباح (3) ، عن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"استَحْيوا من الله حقَّ الحياء فقلنا: يا نبيَّ الله إنا لَنستَحْيي، قال:"ليسَ ذلك، ولكن مَن استَحْيا من الله حق الحياءِ، فليَحفَظ الرأسَ وما حَوَى، والبطن وما وَعَى، وليَذكُرِ الموتَ والبِلَى، ومن أرادَ الآخرة تَركَ زينةَ الدُّنيا، ومن فعلَ ذلك فقد استَحْيا من الله حقَّ الحياء" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7915 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیاء کرو جیسے حیاء کرنے کا حق ہے، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ سے حیاء تو کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء وہ نہیں ہے بلکہ حیاء یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے کماحقہ حیاء کرتا ہے اس کو چاہیے کہ سر اور اس کے خیالات کی حفاظت کرے، پیٹ اور جو کچھ اس میں ہے اس کی حفاظت کرے، موت اور آزمائشوں کو یاد کرے۔ اور جو آخرت چاہتا ہے، وہ دنیا کی زینت چھوڑ دیتا ہے، جس نے ایسا کر لیا، وہ اللہ تعالیٰ سے کماحقہ حیاء کرتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8113]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8114
حدثني علي بن بُنْدار، الزاهد، حدثنا محمد بن المسيَّب، حدثني أحمد بن بكر البالِسي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن عوف، عن الحسن بن أبي الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"يأتي على الناس زمانٌ يَتحلَّقونَ في مساجدِهم وليس هِمَّتُهم إلَّا الدنيا، ليس الله فيهم حاجةٌ، فلا تُجالِسُوهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7916 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجدوں میں حلقے بنا کر بیٹھیں گے لیکن ان کا مقصد دنیا کے سوا کچھ نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ سے ان کو کوئی کام نہیں ہو گا، ان کی مجلسوں مں مت بیٹھنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8114]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں