🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. من استحيا من الله حق الحياء فليحفظ الرأس وما حوى
جو اللہ سے کما حقہ حیا کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے سر اور اس میں موجود خیالات کی حفاظت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8114
حدثني علي بن بُنْدار، الزاهد، حدثنا محمد بن المسيَّب، حدثني أحمد بن بكر البالِسي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن عوف، عن الحسن بن أبي الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"يأتي على الناس زمانٌ يَتحلَّقونَ في مساجدِهم وليس هِمَّتُهم إلَّا الدنيا، ليس الله فيهم حاجةٌ، فلا تُجالِسُوهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7916 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجدوں میں حلقے بنا کر بیٹھیں گے لیکن ان کا مقصد دنیا کے سوا کچھ نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ سے ان کو کوئی کام نہیں ہو گا، ان کی مجلسوں مں مت بیٹھنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8114]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8114 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بمرّة لضعف أحمد بن بكر البالسي، وقال ابن عدي: روى أحاديث مناكير عن الثقات، وزيد بن الحباب في حديثه عن الثَّوري لين. والأصحُّ أن هذا الخبر من كلام الحسن البصري نفسه عوف: هو ابن أبي جميلة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند احمد بن بکر البالسی کے ضعف کی وجہ سے بالکل ضعیف ہے۔ ابن عدی نے کہا: یہ ثقہ راویوں سے منکر روایات بیان کرتا ہے؛ اور زید بن الحباب، ثوری سے روایت کرنے میں "لین" (کمزور) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ خبر خود حسن بصری کا کلام ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عوف: یہ ابن ابی جمیلہ ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2701) من طريق محمد بن يوسف قال: ذكر سفيان عن بعض أصحابه عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ: "يأتي على الناس زمان يكون حديثهم في مساجدهم في أمر دنياهم، فلا تجالسوهم، فليس الله فيهم حاجة". قال البيهقي: هكذا جاء مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (2701) میں محمد بن یوسف کے طریق سے روایت کیا، انہوں نے کہا: سفیان نے اپنے بعض اصحاب سے، انہوں نے حسن سے ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسجدوں میں ان کی گفتگو دنیا کے معاملات میں ہوگی، پس تم ان کے پاس مت بیٹھنا، اللہ کو ان کی کوئی حاجت نہیں"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: بیہقی نے کہا: یہ اسی طرح "مرسل" مروی ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 13/ 528 عن معاوية بن هشام، عن سفيان، عن أبي حازم، عن الحسن من قوله. وهذا سند حسن إلى الحسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (13/ 528) نے معاویہ بن ہشام، از سفیان، از ابو حازم، از حسن (کے اپنے قول) سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور حسن بصری تک یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه المرُّ وذي في "الورع" (202) من طريق سفيان عن رجل عن الحسن من قوله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مروذی نے "الورع" (202) میں سفیان، از ایک شخص، از حسن کے طریق سے ان کے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن ابن مسعود عند ابن حبان (6761)، وإسناده ضعيف
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں ابن مسعود سے ابن حبان (6761) میں روایت ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے۔