المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ التَّقْوَى وَحُسْنُ الْخُلُقِ .
لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں لے جانے والی چیزیں تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہیں
حدیث نمبر: 8116
أخبرني جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا أبو مَعمَر إسماعيل بن إبراهيم الهُذَلي، حدثنا أبو أسامة، حدثنا كُلْثوم بن جَبْر الهُذَلي، حدثنا سليمان بن حَبيب المُحارِبي، قال: سمعتُ أبا أُمامة الباهلي يقول: لما بُعِثَ نبيُّ الله ﷺ أَتَتْ إبليسَ جنودَه، فقالوا: قد بُعِثَ نبيٌّ وخرجَتْ أمّتُه، فقال إبليس: أيحبُّون الدنيا؟ قالوا: نعم، قال: لَئِن كانوا يُحبُّونها ما أُبالي أن لا يَعبُدوا الأوثانَ، إنهم لن يَنفلِتوا مني وأنا أغْدُو عليهم وأرُوحُ بثلاث: أخْذِ المالِ من غير حقِّه، وإنفاقِه في غير حقِّه، وإمساكِه عن حقِّه، والشرُّ كلُّه لهذا تَبَعٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7918 - كلثوم بن جبر ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7918 - كلثوم بن جبر ضعيف
سیدنا سلیمان بن حبیب المحاربی سے مروی ہے کہ سیدنا ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو شیطان کے پاس اس کے چیلے آئے اور کہنے لگے: اللہ کے نبی نے اعلان نبوت کر دیا ہے اور ان کی امت بھی پیدا ہو گئی ہے، شیطان نے کہا: کیا وہ لوگ دنیا سے محبت کرتے ہیں؟ شیطان کے شاگردوں نے کہا: جی ہاں۔ شیطان نے کہا: اگر واقعی وہ دنیا سے محبت کرتے ہیں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے، کہ بتوں کی عبادت نہیں کریں گے، یہ لوگ مجھ سے بچ نہیں سکتے۔ میں ان پر تین چیزوں کے ساتھ صبح اور شام کروں گا۔ یہ ناحق مال لیں گے، اس کو ناحق راہ میں خرچ کریں گے، اور اس کو حق کے راستے سے روک کر رکھیں گے۔ تمام برائیاں انہی تین چیزوں کے تابع ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8116]
حدیث نمبر: 8117
حدثنا أبو بكر محمد بن داود، الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا سهل بن عثمان، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن أبيه، عن جدِّه، عن أبي هريرة قال: سُئل النبيُّ ﷺ عن أكثرِ ما يُدخِل الناسَ الجنَّةَ، قال:"التقوى وحُسْنُ الخُلُق، وسُئل عن أكثرِ ما يُدخِلُ الناسَ النَّارَ، فقال:"الأجْوَفانِ": الفمُ والفَرْجُ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7919 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7919 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ کونسی چیز ہے جس کی بناء پر زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تقویٰ اور حسن اخلاق۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جس کی بناء پر زیادہ لوگ دوزخ میں جائیں گے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہ اور شرمگاہ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8117]