🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. شَرَفُ الْمُؤْمِنِ قِيَامُ اللَّيْلِ
مومن کا شرف رات کو قیام (تہجد) کرنے میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8119
حدثنا محمد بن سعيد المُذكِّر الرازي، حدثنا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا عيسى بن صَبيح، حدثنا زافر بن سليمان، عن محمد بن عُيينة، عن أبي حازم؛ قال مرَّةً: عن ابن عمر، وقال مرَّةً: عن سَهْل بن سعد، قال: جاء جبريلُ ﵇ إلى النبيِّ ﷺ فقال:"يا محمَّدُ، عِشْ ما شئتَ فإنك ميتٌ، وأحبِبْ مَن أحببتَ فإنك مُفارِقُه، واعمَلْ ما شئتَ فإنك مَجزِيّ به". ثم قال:"يا محمَّدُ، شَرَفُ المؤمن قيامُ الليل، وعِزُّه استغناؤُه عن النَّاس" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإنما يعرف من حديث محمد بن حُميد عن زافر، فرضي الله عن أبي زُرْعة أخبَرَناه عن شيخٍ ثقةٍ عن زافر بالشك، وترك تلك الروايةَ عن سَهْل بن سعد بلا شكٍّ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7921 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما (اور کبھی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے) سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جتنا چاہیں جی لیں، بہرحال آپ کو موت آئے گی، اور جس سے چاہیں محبت کریں، بہرحال آپ کو اس سے جدا ہونا ہے، اور جو چاہیں عمل کریں، آپ کو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر انہوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مومن کا شرف رات کا قیام (تہجد) ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیازی میں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام ابوزُرعہ نے اسے ایک ثقہ شیخ سے زافر کے واسطے سے شک کے ساتھ روایت کیا ہے، جبکہ سہل بن سعد کی روایت کو بغیر کسی شک کے نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8119]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، زافر بن سليمان ليِّن الحديث، ومحمد بن عيينة قال أبو حاتم الرازي: لا يحتج به يأتي بالمناكير، بينما وثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "ثقاته"» [ترقيم الرساله 8119] [ترقيم الشركة 8020] [ترقيم العلميه 7921]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں