🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ خَشِنًا وَلَبِسَ خَشِنًا
نبی کریم ﷺ نے سادہ (کھردرا) کھانا کھایا اور سادہ لباس پہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8123
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا حَيْوة بن شُريح الحضرمي، حدثنا بقيّة بن الوليد، حدثني يوسف بن أبي كَثير [عن نُوح بن ذَكْوان] (1) عن الحسن عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ أَكَلَ خَشِنًا، وَلَبِسَ خَشِنًا، لَبِسَ الصُّوف، واحتَذَى المخصوف. قيل للحسن: ما الخَشِنُ؟ قال: غليظُ الشَّعير، ما كان النبيُّ ﷺ يُسِيغُه إِلَّا بِجَرْعةٍ من ماء (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7925 - لم يصح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹا اور کھردرا کھانا تناول فرمایا اور کھردرا لباس پہنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونی لباس زیبِ تن فرمایا اور پیوند لگی ہوئی جوتی پہنی۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ”کھردرا کھانا“ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”جو کا موٹا آٹا، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے گھونٹ کے سہارے کے بغیر (حلق سے) نیچے نہیں اتار سکتے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8123]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة، بقية بن الوليد ضعيف، وشيخه يوسف بن أبي كثير مجهول لا يعرف، ونوح بن ذكوان ضعيف منكر الحديث» [ترقيم الرساله 8123] [ترقيم الشركة 8024] [ترقيم العلميه 7925]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بمرّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8124
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا حفص بن عمر الحَوْضي، حدثنا سلَّام بن أبي مُطِيع، حدثنا معاوية بن قُرَّة، عن مَعقِل بن يَسار قال: قال رسول الله ﷺ:"يقول ربُّكم ﵎: يا ابنَ آدم، تَفرَّغْ لعبادتي أَملأْ قلبك غِنًى، وأَملأ يديك رزقًا، يا ابنَ آدم، لا تَباعَدْ مِنِّي فأَملأَ قلبَك فقرًا، وأَملأَ يديك شُغلًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7926 - صحيح
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے: اے ابنِ آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرے دل کو غنا (بے نیازی) سے بھر دوں گا اور تیرے ہاتھوں کو رزق سے لبریز کر دوں گا، اے ابنِ آدم! مجھ سے دوری اختیار نہ کر ورنہ میں تیرے دل کو فقر (محتاجی) سے بھر دوں گا اور تیرے ہاتھوں کو دنیاوی مصروفیات میں الجھا دوں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8124]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، من أجل سلام» [ترقيم الرساله 8124] [ترقيم الشركة 8025] [ترقيم العلميه 7926]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8125
أخبرنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزَاعي بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا موسى بن عُلَي بن رَبَاح، قال: سمعتُ أبي يقول: سمعت عمرو بن العاص يقول، وهو يخطُبُ الناسَ بمصر: ما أبعدَ هَدْيَكم من هَدْي نبيِّكم-ﷺ، أمّا هو فكان أزهدَ الناسِ في الدنيا، وأمّا أنتم فأرغَبُ الناسِ فيها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7927 - صحيح
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مصر میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”تمہاری روش تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روش سے کتنی دور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا میں سب سے زیادہ زہد اختیار کرنے والے تھے جبکہ تم لوگ اس میں سب سے زیادہ رغبت رکھنے والے ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8125]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8125] [ترقيم الشركة 8026] [ترقيم العلميه 7927]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں