المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. قَضَاءُ أَبِي بَكْرٍ فِي الْجَدَّةِ
دادی (یا نانی) کی میراث کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
حدیث نمبر: 8176
فأخبرَناه أبو العباس السَّيّاري، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مَعمَر كلُّهم عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"ألحِقُوا المالَ بالفرائض، فما أبقَتِ الفرائضُ فهو لأَولى رجلٍ ذَكَر" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7973 - بل أجمعوا على ضعفه يعني علي بن عاصم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7973 - بل أجمعوا على ضعفه يعني علي بن عاصم
مذکور اسانید کے ہمراہ تمام نے سیدنا عبداللہ بن طاؤس کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مال اولاً اصحاب فرائض کو دو، جو مال ان سے بچ جائے وہ اس مرد کو دو جو میت کا سب سے قریبی رشتہ دار ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8176]
حدیث نمبر: 8177
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذ العَدْل، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سفيان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا القَعْنبي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن قَبيصة بن ذُؤَيب قال: جاءت الجَدَّةُ إلى أبي بكر بعدَ رسول الله ﷺ فقالت: إنَّ لي حقًّا؛ ابن ابنٍ - أو ابن ابنةٍ - لي مات، قال: ما علمتُ لك في الكتاب حقًّا، ولا سمعتُ من رسول الله ﷺ فيه شيئًا، وسأسألُ، فَشَهِدَ المغيرةُ بن شُعبة: أن رسولَ الله ﷺ أعطاها السُّدسَ، قال: مَن سَمِعَ ذلك معك؟ فشَهِدَ محمدُ بن مَسْلَمة، فأعطاها أبو بكر السُّدسَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7978 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7978 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قبیصہ بن ذویب فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ظاہری کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک دادی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرا حق ہے، میرا پوتا یا (شاید کہا کہ میرا) نواسا فوت ہوا ہے۔ آپ اس کی وراثت مجھے عطا کیجیے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے کتاب اللہ میں تیرا حق کہیں نہیں ملا اور نہ میں نے اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد سنا ہے۔ تاہم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کروں گا، پھر انہوں نے صحابہ کرام سے اس بارے میں مشاورت کی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی کو چھٹا حصہ عطا فرمایا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرے ساتھ اور کس کس نے یہ بات سنی ہے؟ تو محمد بن مسلمہ نے بھی اسی بات کی گواہی دی، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو چھٹا عطا فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8177]