🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. تَعَافَوُا الْحُدُودَ بَيْنَكُمْ
حدود کے معاملات (حاکم تک پہنچنے سے پہلے) آپس میں معاف کر دیا کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8354
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدَّثنا وهب بن جَرير وسعيد بن عامر (1) ، عن شُعْبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدَّثنا محمد بن جعفر، عن شُعبة، قال: سمعتُ يحيى الجابر يقول: سمعتُ أبا ماجدةَ يقول: كنتُ قاعدًا مع عبد الله بن مسعود فقال: إني لأذكرُ أولَ رجلٍ قَطَعَه رسولُ الله ﷺ، أُتِيَ بسارق فأمرَ بقطعِه، فكأنما أَسِفَ وجهُ رسول الله ﷺ، فقالوا: يا رسول الله، كأنَّك كرهتَ قطعَه، قال:"وما يَمنَعُني؟! لا تكونوا أعوانًا للشيطان على أخيكم، إنه لا يَنبَغي للإمام إذا انتَهَى إليه حدٌّ إلَّا أن يُقِيمَه، إِنَّ الله عَفُوٌّ يُحبُّ العفو، ﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [النور: 22] " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8155 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوماجدہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: میں اس آدمی کا نام نہیں بتاؤں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا، وہ ایک چور تھا، اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر افسردگی کے آثار تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لگتا ہے آپ کو اس کے ہاتھ کاٹنا ناگوار گزر رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اور کیا؟ مجھے اس سے کیا چیز منع کرے گی؟ تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے بھائی مت بنو، امام کا تو فرض منصبی یہ ہے کہ جب کسی کے لئے حد ثابت ہو جائے تو وہ اس پر حد نافذ کرے۔ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے، بخشنے کو ہی پسند کرتا ہے، اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ معاف کر دیا کریں اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کرے، اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا، مہربان ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8354]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں