المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
46. لَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا كَانَ مَعَهُمْ
آدمی جس قوم سے محبت کرتا ہے، (قیامت میں) انہی کے ساتھ ہوگا
حدیث نمبر: 8359
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا حَيَّان بن هلال، حدَّثنا وُهَيب، حدَّثنا سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"لا يَستُرُ عبدٌ عبدًا في الدنيا إِلَّا سَتَره اللهُ يومَ القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وهذا يُصحِّح حديثَ الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة، وحديثَ محمد بن واسع عن أبي صالح عن أبي هريرة (2) ، وذاك أنَّ أسباط بن محمد القرشي رواه عن الأعمش عن بعض أصحابه عن أبي صالح، ورواه حمادُ بن زيد عن محمد بن واسع عن رجل عن أبي صالح (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8160 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وهذا يُصحِّح حديثَ الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة، وحديثَ محمد بن واسع عن أبي صالح عن أبي هريرة (2) ، وذاك أنَّ أسباط بن محمد القرشي رواه عن الأعمش عن بعض أصحابه عن أبي صالح، ورواه حمادُ بن زيد عن محمد بن واسع عن رجل عن أبي صالح (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8160 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ دنیا میں کسی بندے کا گناہ چھپائے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ چھپائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ ابوصالح نے سیدنا ابوہریرہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو بندہ دنیا میں کسی کے گناہ کو چھپاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہوں کو چھپاتا ہے۔ اسباط بن محمد القرشی نے اس حدیث کو اعمش کے واسطے اپنے ایک ساتھی کے حوالے سے ابوصالح سے روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید نے محمد بن واسع کے ذریعے ایک آدمی کے واسطے سے ابوصالح سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8359]
حدیث نمبر: 8360
أخبرنا أبو العباس المحبوبي، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا همَّام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، قال: حدثني شَيْبة الحَضْرمي، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ثلاثٌ أحلِفُ عليهنَّ، والرابعُ لو حَلَفتُ عليه لرَجَوتُ أن لا أثَمَ: لا يجعلُ الله عبدًا له سهمٌ في الإسلام كمن لا سهمَ له، ولا يتولَّى الله عبدٌ في الدنيا فيُولِّيَه غيرَه يومَ القيامة، ولا يحبُّ رجلٌ قومًا إِلَّا كان معهم أو منهم، والرابعةُ لو حلفتُ عليها لرَجَوتُ أن لا أَثَمَ: لا يَسْتُرُ اللهُ على عبدٍ في الدنيا إلَّا سَتَرَ الله عليه في الآخرة". قال: فحَدّثتُ به عمرَ بن عبد العزيز، فقال عمر: إذا سمعتُم مثلَ هذا الحديث عن عُرُوة عن عائشة عن رسول الله ﷺ، فاحفَظُوه واحتفِظُوا به (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8161 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8161 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم کھا سکتا ہوں، اور ایک چوتھی چیز بھی ہے، وہ ایسی ہے کہ اگر میں اس پر قسم کھاؤں تو مجھے امید ہے کہ میں گنہگار نہیں ہوں گا۔ ٭ جس آدمی کا اسلام میں کوئی حصہ ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس آدمی کے برابر نہیں رکھے گا جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ ٭ ایسا نہیں ہو سکتا کہ بندہ دنیا میں اللہ تعالیٰ سے دوستی رکھے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کسی اور سے دوستی رکھے۔ ٭ جو بندہ جس قوم سے محبت رکھے گا، وہ ان کے ساتھ ہی ہو گا۔ ٭ چوتھی بات پر اگر میں قسم کھاؤں تو مجھے یقین ہے کہ اس میں، میں گنہگار نہیں ہوں گا، وہ چوتھی بات یہ ہے کہ جو بندہ دنیا میں لوگوں کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا: جب تم عروہ کی بیان کردہ حدیث سنو جو انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو تو اس کو یاد کر لیا کرو اور اس کو یاد رکھا بھی کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8360]