المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
50. ذِكْرُ مَنْ رُفِعَ عَنْهُمُ الْقَلَمُ
ان لوگوں کا ذکر جن سے (اعمال کا) قلم اٹھا لیا گیا ہے
حدیث نمبر: 8366
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الربيع بن سليمان، حدَّثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن المُنكَدِر حدَّثه، أَنَّ ابن خُزَيمة بن ثابت حدَّثه عن أبيه خُزيمة بن ثابت، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أَيُّما عبدٍ أصابَ شيئًا مما نَهَى الله عنه، ثم أُقيمَ عليه حدُّه، كُفِّر عنه ذلك الذَّنبُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8167 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8167 - صحيح
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی جرم کی پاداش میں بندے پر جب حد نافذ کر دی جاتی ہے تو وہ حد اس کے گناہ کے لئے کفارہ بن جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8366]
حدیث نمبر: 8367
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا عفر بن عَوْن، أخبرنا الأعمش، عن أبي طَبْيان، عن ابن عباس قال: أُتِيَ عمرُ بمُبْتلاةٍ قد فَجَرَت، فأمَرَ برجمِها، فمرَّ بها عليُّ بن أبي طالب ومعها الصِّبيانُ يتبعونَها، فقال: ما هذه؟ قالوا: أَمَر بها عمرُ أن تُرجَمَ، قال: فردَّها وذهب معها إلى عمر، وقال: ألم تعلم أنَّ القلمَ رُفِعَ عن ثلاثٍ (2) : عن المجنون حتى يَعقِل، وعن المُبتَلَى حتى يُفِيقَ، وعن النائم حتى يَستيقِظَ، وعن الصبيِّ حتى يَحتلِم؟ (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ورواه شُعبة عن الأعمش بزيادة ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8168 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ورواه شُعبة عن الأعمش بزيادة ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8168 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک زانیہ عورت کو پیش کیا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے رجم کرنے کا حکم دیا، وہاں سے سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، وہاں پر اس عورت کے چھوٹے چھوٹے بچے رو رہے تھے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے رجم کا حکم دیا ہے، سیدنا علی نے اس عورت کو واپس کیا، اور اس کے ہمراہ خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے، اور فرمایا: کیا آپ جانتے نہیں کہ مجنون سے قلم اٹھا لیا گیا ہے جب تک کہ اس کی عقل ٹھیک نہ ہو جائے پاگل سے بھی قلم اٹھا لیا گیا ہے حتی کہ اس کو افاقہ ہو جائے (اور اس کی عقل ٹھیک ہو جائے) اور سوئے ہوئے سے بھی قلم اٹھا لیا گیا ہے حتی کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچے سے بھی قلم اٹھا لیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو شعبہ نے اعمش سے روایت کیا ہے اور ان کی روایت میں کچھ الفاظ زائد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8367]
حدیث نمبر: 8368
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذ العَدْل وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا أبو النَّضر، حدَّثنا شُعبة، عن الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عباس قال: أُتِيَ عمرُ بامرأةٍ مجنونةٍ حُبْلَى، فأراد أن يرجُمَها، فقال له علي: أوَما علمتَ أنَّ القلم قد رُفِعَ عن ثلاثٍ: عن المجنون حتى يَعقِل، وعن الصبيِّ حتى يَحتلِم، وعن النائم حتى يَستيقِظ؟ فخلَّى عنها (1) . وقد رُويَ هذا الحديثُ بإسناد صحيحٍ الرُّواة، مُرسَلٌ عن علي ﵁، عن النبيِّ ﷺ مُسنَدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8169 - صحيح فيه إرسال
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8169 - صحيح فيه إرسال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مجنونہ عورت کو زنا کے کیس میں پیش کیا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو رجم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: مجنون سے، جب تک کہ اس کی عقل درست نہ ہو جائے۔ بچے سے، جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔ سوئے ہوئے سے، جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8368]
حدیث نمبر: 8369
أخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدَّثنا عفان، حدَّثنا همَّام، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن علي، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"رُفِعَ القلمُ عن ثَلَاثَةٍ: عن النائم حتى يَستيقِظَ، وعن المَعتُوه حتى يَعقِلَ، وعن الصبيِّ حتى يَشِبَّ" (2) .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سوئے ہوئے سے، جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے۔ پاگل سے، جب تک کہ اس کی عقل ٹھیک نہ ہو جائے۔ بچے سے، جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8369]
حدیث نمبر: 8370
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدَّثنا هاشم بن مَرْثَد الطَّبَراني، حدَّثنا عمرو بن الرَّبيع بن طارق، حدَّثنا عِكْرمة بن إبراهيم، حدثني سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادةَ، عن عبد الله بن رَبَاح (1) ، عن أبي قَتَادة: أنه كان مع النبيِّ ﷺ في سَفَر فأدلَجَ فتَقطَّع الناسُ عليه، قال: فقال النبيُّ ﷺ:"إِنَّه يُرفَعُ القلمُ عن ثلاثٍ: عن النائم حتى يَستيقِظَ، وعن المَعتُوه حتى يَصِحَّ، وعن الصبيِّ حتى يَحتِلِمَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8171 - عكرمة ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8171 - عكرمة ضعفوه
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے یہ لوگ ساری رات سفر کرتے رہے، قافلے کے لوگ ادھر ادھر بکھر گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سوئے ہوئے سے، جب تک اٹھ نہ جائے۔ فاتر العقل سے، جب تک تندرست نہ ہو جائے۔ بچے سے، جب تک بالغ نہ ہو جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8370]
حدیث نمبر: 8371
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بَحْر بن نصر الخَوْلاني، حدَّثنا ابن وهب، أخبرنا ابن جُرَيج، عن ابن أبي نَجِيحٍ، عن مجاهدٍ، عن عطية رجلٍ من بني قُريظة، أخبره أن أصحاب رسول الله ﷺ جرَّدُوه يومَ قُريظةَ، فلم يَرُوا المَواسِيَ جَرَتْ على شَعْره؛ يعني عانتَه، فتَرَكوه من القَتْل (3) .
هذا حديث غريب صحيح، ولم يخرجاه، وإنما يُعرَف من حديث عبد الملك بن عُمَير عن عطيّة القُرَظي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8172 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح، ولم يخرجاه، وإنما يُعرَف من حديث عبد الملك بن عُمَير عن عطيّة القُرَظي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8172 - صحيح غريب
عطیہ کہتے ہیں: بنی قریظہ کے ایک آدمی نے بیان کیا ہے کہ صحابہ کرام نے قریظہ کے دن مجھے ننگا کر دیا، انہوں نے دیکھا کہ میری بغلوں کے بالوں پر ابھی استرا نہیں لگا تھا (یعنی میں ابھی نابالغ تھا تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یہ حدیث عبدالملک بن عمیر کے واسطے سے عطیہ قرظی کی سند سے مشہور ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8371]