🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
دنیاوی زندگی میں "بشارت" سے مراد سچے خواب ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8377
حدَّثنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكرٍ العَدْلُ، حدَّثنا الحسين بن الفضل، حدَّثنا عفّان بن مسلم، حدَّثنا عبد الواحد بن زياد، حدَّثنا المختار بن فُلْفُل، حدَّثنا أنس مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الرسالةَ والنبوَّةَ قد انقَطَعَت، فلا رسولَ بعدي ولا نبيَّ"، قال: فشَقَّ ذلك على الناس، فقال:"لكن المُبشِّراتُ" قالوا: يا رسول الله، ما المبشِّرات؟ قال:"رُؤْيا المَرْء المسلم، وهي جزءٌ من أجزاء النبوَّة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8178 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسالت اور نبوت ختم ہو چکی ہے، اب میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی آئے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگ یہ بات سن کر بہت پریشان ہو گئے، (ان کی کیفیت دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن مبشرات چلتے رہیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو خواب دیکھتا ہے، یہ نبوت کے اجزاء میں چھیالیسواں حصہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8377]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8378
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسن بن بَيَان المُقرئ، حدَّثنا عبد الله بن رَجَاء، حدَّثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة قال: نُبِّئتُ عن عُبادة بن الصَّامت قال: سألتُ رسول الله ﷺ عن قوله ﷿: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [يونس: 64] قال:"هي الرُّؤْيا الصَّالحةُ يَرَاها المؤمنُ أو تُرَى له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي الدرداء الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8179 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لھم البشری في الحياة الدنيا انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ نیک خواب ہیں جو بندہ مومن دیکھتا ہے، یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8378]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8379
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيري، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عُمر، حدَّثنا سفيان، عن عبد العزيز بن رُفيع، عن أبي صالح السَّمَّان، عن عطاء بن يَسار، قال: سألتُ أبا الدرداء عن قول الله ﷿: ﴿لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾، فقال: ما سألني عنها أحدٌ غيرُك منذ سألتُ رسول الله ﷺ عنها، سألتُ رسولَ الله ﷺ عنها فقال:"ما سألَني عنها أحدٌ غيرُك مُنذُ أنزلَت، هي الرُّؤيا الصالحةُ يَراها المسلم، أو تُرَى له" (2) .
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد لھم البشری في الحياة الدنيا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس آیت کے بارے میں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہے تب سے آج تک تیرے علاوہ اور کسی نے مجھ سے اس آیت کے بارے میں نہیں پوچھا، میں نے اس آیت کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے، تیرے سوا کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ نیک خواب ہیں جو بندہ مومن دیکھتا ہے، یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8379]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں