المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. لا تخبر بتلعب الشيطان بك فى المنام
خواب میں شیطان کے اپنے ساتھ کھیلنے کا تذکرہ (لوگوں کو) نہ کرو
حدیث نمبر: 8380
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبيُّ، حدَّثنا أبو عيسى محمد بن عيسى، حدَّثنا قُتيبة بن سعيد، حدَّثنا بكر بن مُضَر، عن ابن الهاد، عن عبد الله بن خَبَّاب، عن أبي سعيدٍ الخُدْري، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"إذا رأى أحدُكم الرُّؤيا يحبُّها فإنما هي من الله، فليَحمَدِ الله عليها وليُحدِّثْ بما رأى، وإذا رأى غيرَ ذلك مما يَكرَه فإنما هي من الشيطان، فليَستعِذْ بالله من شَرِّها ولا يَذْكُرْها لأحد، فإنها لا تَضرُّه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8181 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8181 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی بندہ ایسا خواب دیکھے جو اسے بہت اچھا لگے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور جو کچھ دیکھا ہے وہ (کسی اہل کے سامنے بیان کرنا چاہیے، اور جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے، یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کو چاہئے کہ اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے، اور وہ اپنا یہ خواب کسی کے سامنے بیان نہ کرے، اس کا نقصان ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8380]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8380 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو عيسى محمد بن عيسى: هو الإمام الترمذي المشهور صاحب "السنن"، وابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله، وعبد الله بن خباب: هو الأنصاري المدني.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ سے مراد مشہور امام ترمذی صاحب "السنن" ہیں۔ ابن الہاد سے مراد "یزید بن عبداللہ"، اور عبداللہ بن خباب سے مراد "انصاری مدنی" ہیں۔
والحديث في "جامع الترمذي" (3453). وقال: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث "جامع ترمذی" (3453) میں موجود ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: انہوں نے کہا: حدیث حسن صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11054)، والنسائي (7605) و (10729) من طريق قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (17/ 11054) اور نسائی (7605، 10729) نے قتیبہ بن سعید کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (6985) و (7045) من طرق عن يزيد بن الهاد به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (6985، 7045) نے یزید بن الہاد سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: پس حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول ہے۔