المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے ہی دیکھا
حدیث نمبر: 8385
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا أبو عَوَانة، عن عبد الأعلى، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي عن عليٍّ، أن النبي ﷺ قال:"مَن كَذَب في حُلْمِه، كُلِّف يومَ القيامة أن يَعقِدَ بين شَعيرتَين" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے خواب بیان کرنے میں جھوٹ سے کام لیا اس کو قیامت کے دن اس بات کا مکلف کیا جائے گا کہ وہ دو بالوں کو گرہ لگائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8385]
حدیث نمبر: 8386
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم بن كُليب قال: حدثني أبي، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن رآني في المَنام فقد رآني؛ إِنَّ الشيطان لا يَتمثَّلُني". قال أَبي: فحدَّثتُ به ابنَ عباس وقلتُ: قد رأيتُه؛ فذكرتُ الحسنَ بن علي فشبَّهتُه به، فقال ابن عباس: إنه كان يُشبِهُه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8186 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8186 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے واقعی مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔ میرے والد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی، اور کہا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، پھر میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا، میں نے کہا: حسن بن علی رضی اللہ عنہما، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل ملتے جلتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بولے: جی ہاں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8386]