المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے ہی دیکھا
حدیث نمبر: 8386
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم بن كُليب قال: حدثني أبي، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن رآني في المَنام فقد رآني؛ إِنَّ الشيطان لا يَتمثَّلُني". قال أَبي: فحدَّثتُ به ابنَ عباس وقلتُ: قد رأيتُه؛ فذكرتُ الحسنَ بن علي فشبَّهتُه به، فقال ابن عباس: إنه كان يُشبِهُه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8186 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8186 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو بیشک اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری مشابہت اختیار نہیں کر سکتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا: میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی اور کہا کہ میں نے خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، پھر میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مشابہ قرار دیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بیشک وہ (سیدنا حسن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8386]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8386]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، عاصم بن كليب وأبوه صدوقان لا بأس بهما» [ترقيم الرساله 8386] [ترقيم الشركة 8287] [ترقيم العلميه 8186]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8387
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، قال: حدثني عثمان بن عبد الرحمن، عن الزُّهري، عن عُروة، عن عائشة قالت: سُئِلَ رسول الله ﷺ عن وَرَقةَ، فقالت له خديجة: إنه كان صدَّقكَ ولكنه مات قبل أن تَظهَر، فقال رسولُ الله ﷺ:"أُريتُه في المنام وعليه ثيابٌ بِيضٌ، ولو كان من أهل النار لكان عليه لباسٌ غيرُ ذلك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8187 - عثمان هو الوقاص متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8187 - عثمان هو الوقاص متروك
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے متعلق سوال کیا گیا، اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: انہوں نے آپ کی تصدیق کی تھی لیکن آپ کے (باقاعدہ) ظہورِ نبوت سے پہلے ہی وہ وفات پا گئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے انہیں خواب میں دیکھا ہے کہ وہ سفید لباس پہنے ہوئے ہیں، اور اگر وہ دوزخی ہوتے تو ان پر اس کے علاوہ کوئی اور لباس ہوتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8387]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8387]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، عثمان بن عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 8387] [ترقيم الشركة 8288] [ترقيم العلميه 8187]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا