المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. رُؤْيَا رَجُلٍ رَوْضَةً خَضْرَاءَ
ایک شخص کا خواب کہ اس نے ایک سبز باغ دیکھا
حدیث نمبر: 8389
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير، حدَّثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرَّازي، حدَّثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدَّثنا الأشعث، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أنَّ النبي ﷺ قال ذاتَ يوم:"مَن رأى منكم رُؤْيا؟" فقال رجلٌ: أنا، رأيت كأنَّ ميزانًا نَزَل من السماء، فوُزِنتَ أنت وأبو بكر فرَجَحت أنت بأبي بكر، ووُزِنَ عمرُ بأبي بكر فرَجَح أبو بكر، ووُزِنَ عمرُ وعثمانُ فَرَجَح عمرُ، ثم رُفِع الميزان، فرأيتُ الكراهيَةَ في وجهِ رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8189 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8189 - صحيح
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) سے پوچھا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ جیسے کوئی ترازو آسمان سے نازل ہوا، اس میں آپ کا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا باہم وزن کیا گیا، آپ، ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھاری رہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا باہم وزن کیا گیا، اس مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھاری رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہم وزن کیا گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھاری رہے، اس کے بعد ترازو اٹھا لیا گیا، (یہ خواب سنانے کے بعد) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8389]
حدیث نمبر: 8390
حدثني علي بن عيسى الحِيريُّ، حدَّثنا الحسين (2) بن محمد بن زياد، حدَّثنا أبو الخَطَّاب زياد بن يحيى الحسّاني (3) ، حدَّثنا مَسْعَدة بن اليَسَع، عن ابن عَوْن، عن ابن سِيرِين، عن قيس بن عُبَاد (4) قال: كنت جالسًا في حَلْقة المسجد فدخل رجلٌ، فقالوا: هذا رجلٌ من أهل الجنة، فصلَّى فخرج، فاتَّبعتُه فقلت: إِنَّ القوم قالوا كذا وكذا، فقال: ما ينبغي لأحدٍ أن يَكذِبَ أو يقولَ ما لا يعلم، وسأحدِّثُك لِمَ ذا: إني رأيت رؤيا فقصصتُها على النبي ﷺ، رأيت كأنِّي في رَوْضةٍ خضراءَ - فذكر من سَعَتِها وخُضْرتها - وفي وَسَط الروضة عمود من حديد، فأتاني رجل فقال لي: اصعَدْ، فقلت: لا أستطيع أن أصعدَ، قال: فأتاني مِنصَفٌ (5) من خلفي، فقال بي، فصعَّدَني مع ثيابي، فلما انتهيتُ إلى أعلى العمود إذا فيه عُرْوةٌ، فأَدخلتُ يدي في العروة، فلقد أصبحتُ وإِنَّ الحَلْقة لفي يدي، فقال النبي ﷺ:"أما الرَّوضةُ فروضةُ الإسلام، وأما العمودُ فعمودُ الإسلام، وأما العُروةُ فأخذتَ بالعروة الوُثْقى، فلا تزالُ ثابتًا على الإسلام حتى تموتَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2) ، ولو كان الرجل فيه مسمًّى لصحَّ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8190 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2) ، ولو كان الرجل فيه مسمًّى لصحَّ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8190 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی مسجد میں آیا، لوگ کہنے لگے: یہ جنتی شخص ہے، اس نے نماز پڑھی اور مسجد سے نکل گیا، میں اس کے پیچھے پیچھے گیا، میں نے اس سے کہا: لوگ آپ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کر رہے ہیں، اس نے کہا: جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس کے بارے میں یقین نہیں ہے، اس کی وجہ میں تجھے بتاتا ہوں، (بات دراصل یہ ہے کہ) میں نے ایک دفعہ خواب دیکھا، اور وہ خواب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، (خواب یہ تھا) میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبز باغ میں موجود ہوں، پھر اس کے سبزہ اور اس کی وسعت کا ذکر کیا، اور باغ کے درمیان لوہے کا ایک ستون ہے، میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اس پر چڑھ جا۔ میں نے کہا: میں اس پر نہیں چڑھ سکتا، اس نے چڑھنے کے لئے میرے پیچھے کوئی چیز رکھ دی، پھر کہا: چڑھو، میں نے کہا: میں نہیں چڑھ سکتا، اس نے میرے کپڑوں سے پکڑ کر مجھے اوپر چڑھا دیا، جب میں اس ستون کی بلندی پر پہنچا تو وہاں ایک رسی تھی، میں نے اپنا ہاتھ اس رسی میں ڈال دیا، جب صبح ہوئی تو میرے ہاتھ پر رسی کے نشانات موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ سے مراد ” اسلام “ ہے۔ اور ستون ” اسلام کا ستون “ ہے۔ اور رسی سے مراد ” عروۃ الوثقی “ ہے۔ تو نے اس کو تھام لیا ہے، اس لئے تو ساری زندگی اسلام پر قائم رہے گا اور تیرا خاتمہ بھی اسلام پر ہی ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8390]