🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. الْخَرْنُوبُ لِخَرَابِ الْمَوْضِعِ
کسی جگہ کی ویرانی کے لیے "خرنوب" (درخت) کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8426
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو حُذَيفة موسى بن مسعود، حَدَّثَنَا إبراهيم بن طَهْمان، عن عطاء بن السَّائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"كان سليمانُ نبيُّ الله إذا قام في مُصلَّاه رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فيقول: ما اسمُكِ؟ فتقول: كذا، فيقول: لأيِّ شيء أنتِ؟ فتقولُ: لكذا وكذا، فإنْ كانت لدواءٍ كُتِبَت، وإن كانت لِغَرْسٍ غُرِسَت، فبينما هو يُصلّي يومًا إذ رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فقال لها: ما اسمُكِ؟ قالت: الخُرْنوب، قال: لأيّ شيء أنتِ؟ قالت: لِخَراب هذا البيت، قال سليمان: اللهمَّ عَمَّ على الجِنِّ مَوْتي حتَّى يَعلَمَ الإنسُ أَنَّ الجنَّ لا تَعلمُ الغيب، قال: فنَحَتَها عَصًا فتوكَّأ عليها، قال: فأَكَلَتها الأَرَضَةُ فَسَقَطَ، فَحَزَرُوا آكِلَتَها الأَرَضِةُ فوجدوه حَولًا (1) فتبيَّنت الإنسُ أَنَّ الجنَّ لو كانوا يعلمون الغيبَ ما لَبِثوا حولًا في العذاب المُهِين - وكان ابن عباس يقرؤها هكذا - فشَكَرَت الجنُّ الأَرَضَةَ، فكانت تأتيها بالماء حيثُ كانَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8222 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام جب اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے تو اپنے سامنے ایک درخت اگا ہوا دیکھتے، آپ اس سے پوچھتے: تمہارا نام کیا ہے؟ وہ بتاتا: میرا نام یہ ہے، آپ پوچھتے: تم کس مقصد کے لیے ہو؟ وہ کہتا: اس اس کام کے لیے، پس اگر وہ دوا کے لیے ہوتا تو اسے لکھ لیا جاتا اور اگر وہ پودا لگانے کے لیے ہوتا تو اسے لگا دیا جاتا، ایک دن آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ اپنے سامنے ایک درخت اگا ہوا دیکھا، آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: الخرنوب، آپ نے پوچھا: تم کس لیے ہو؟ اس نے کہا: اس گھر (بیت المقدس) کی بربادی کے لیے، سلیمان علیہ السلام نے دعا کی: اے اللہ! میری موت کو جنات پر پوشیدہ رکھ تاکہ انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ جنات غیب کا علم نہیں جانتے، راوی کہتے ہیں: آپ نے اس لکڑی سے ایک عصا تراشا اور اس پر ٹیک لگا لی، پھر اسے دیمک نے کھا لیا اور آپ گر پڑے، جب انہوں نے دیمک کے کھانے کا اندازہ لگایا تو اسے ایک سال کا عرصہ پایا، تب انسانوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر جنات غیب کا علم جانتے ہوتے تو وہ ایک سال تک اس ذلت آمیز عذاب میں مبتلا نہ رہتے — اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے اسی طرح پڑھا کرتے تھے — پھر جنات نے دیمک کا شکریہ ادا کیا اور وہ جہاں بھی ہوتی اسے پانی پہنچایا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8426]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا على ابن عباس كما سلف بيانه برقم (7616)» [ترقيم الرساله 8426] [ترقيم الشركة 8324] [ترقيم العلميه 8222]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں