المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. التَّدَاوِي مِنْ قَدَرِ اللَّهِ
دوا کے ذریعے علاج کرنا بھی اللہ کی تقدیر ہی کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 8426
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو حُذَيفة موسى بن مسعود، حَدَّثَنَا إبراهيم بن طَهْمان، عن عطاء بن السَّائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"كان سليمانُ نبيُّ الله إذا قام في مُصلَّاه رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فيقول: ما اسمُكِ؟ فتقول: كذا، فيقول: لأيِّ شيء أنتِ؟ فتقولُ: لكذا وكذا، فإنْ كانت لدواءٍ كُتِبَت، وإن كانت لِغَرْسٍ غُرِسَت، فبينما هو يُصلّي يومًا إذ رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فقال لها: ما اسمُكِ؟ قالت: الخُرْنوب، قال: لأيّ شيء أنتِ؟ قالت: لِخَراب هذا البيت، قال سليمان: اللهمَّ عَمَّ على الجِنِّ مَوْتي حتَّى يَعلَمَ الإنسُ أَنَّ الجنَّ لا تَعلمُ الغيب، قال: فنَحَتَها عَصًا فتوكَّأ عليها، قال: فأَكَلَتها الأَرَضَةُ فَسَقَطَ، فَحَزَرُوا آكِلَتَها الأَرَضِةُ فوجدوه حَولًا (1) فتبيَّنت الإنسُ أَنَّ الجنَّ لو كانوا يعلمون الغيبَ ما لَبِثوا حولًا في العذاب المُهِين - وكان ابن عباس يقرؤها هكذا - فشَكَرَت الجنُّ الأَرَضَةَ، فكانت تأتيها بالماء حيثُ كانَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8222 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8222 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو کوئی ایک بوٹی آپ کے سامنے اگتی، آپ اس سے اس کا نام پوچھتے، وہ اپنا نام بتاتی، آپ اس سے پوچھتے کہ تو کس کام آتی ہے؟ وہ اپنے فوائد بتاتی، اگر وہ کسی دوا میں کام آنے کی ہوتی تو آپ اس کا نسخہ لکھ لیتے اور اگر وہ کاشت کرنے کی ہوتی تو اس کو کاشت کر دیتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اپنے سامنے ایک بوٹی اگتی ہوئی دیکھی، آپ نے اس سے نام پوچھا، اس نے بتایا کہ میرا نام ” خرنوب “ ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تو کس لیے بنائی گئی ہے؟ اس نے بتایا کہ مجھے گھر اجاڑنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دعا مانگی کہ یا اللہ! جنات سے میری موت کو پوشیدہ رکھنا، تاکہ انسانوں کو یقین ہو جائے کہ جنات غیب نہیں جانتے۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ایک عصا تیار کروایا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، (اسی کیفیت میں آپ کی روح پرواز کر گئی، اور آپ برابر ٹیک لگا کر کھڑے رہے) زمین نے اس عصا کو کھا لیا، تب وہ عصا گر گیا، اور سلیمان علیہ السلام گر گئے، تب جنات کو پتا چلا کہ آپ تو گزشتہ ایک سال سے وفات پا چکے ہیں، اس سے انسانوں کو یقین ہو گیا کہ اگر جنات غیب جانتے ہوتے تو یہ پورا سال اس قدر مشقت میں نہ رہتے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس اسی طرح سنایا کرتے تھے، جنات نے زمین کا شکریہ اس انداز میں ادا کیا کہ زمین میں ہر جگہ پر انہوں نے پانی پہنچا دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8426]