المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. لَا تَحْمُوا الْمَرِيضَ شَيْئًا
بیمار کو زبردستی کسی چیز سے پرہیز نہ کرواؤ
حدیث نمبر: 8455
أخبرنا عبد الله بن جعفر الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان، حَدَّثَنَا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن جعفر، عن عُمَارة بن غَزِيّة، عن عاصم بن عمر بن قَتادة بن النُّعمان، عن محمود بن لَبيد، عن قَتَادة بن النعمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أحبَّ الله عبدًا حَمَاهُ الدنيا كما يَظَلُّ أحدُكم يَحْمِي سَقِيمَه الماءَ" (5) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے (تاکہ وہ اسے نقصان نہ پہنچائے)۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8455]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8455]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إسحاق بن محمد الفروي، وقد توبع فيما سلف برقم (7652)» [ترقيم الرساله 8455]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8456
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقَدَّمي، حَدَّثَنَا محمد بن مُسلم، عن يحيى بن أيوب، عن هشام بن عروة (1) ، عن أبيه، عن عائشة قالت: مَرِضتُ فَحَمَانِي أَهلي كلَّ شيء حتَّى الماءَ، فعَطِشتُ ليلةً وليس عندي أحدٌ، فدَنَوتُ من قِرْبةٍ معلَّقة فشربتُ منها شَربةً، وقمتُ وأنا صحيحةٌ، فجعلتُ أعرِفُ صِحّةَ تلك الشَّربةِ في جسدي. قال: وكانت عائشة تقول: لا تَحمُوا المريضَ شيئًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں بیمار ہوئی تو میرے گھر والوں نے مجھے ہر چیز سے پرہیز کروایا یہاں تک کہ پانی سے بھی، ایک رات مجھے سخت پیاس لگی اور میرے پاس کوئی موجود نہ تھا، میں ایک لٹکی ہوئی مشک کے قریب ہوئی اور اس سے ایک گھونٹ پانی پی لیا، میں صبح اٹھی تو بالکل تندرست تھی اور میں اپنے جسم میں اس ایک گھونٹ کی برکت محسوس کر رہی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: ”مریض کو کسی چیز سے (سختی کے ساتھ) پرہیز نہ کرواؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8456]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8456]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل محمد بن مسلم» [ترقيم الرساله 8456] [ترقيم الشركة 8353] [ترقيم العلميه 8251]
الحكم على الحديث: إسناده حسن