المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. العلاج بالحجامة
حجامہ کے ذریعے علاج کرنا
حدیث نمبر: 8456
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقَدَّمي، حَدَّثَنَا محمد بن مُسلم، عن يحيى بن أيوب، عن هشام بن عروة (1) ، عن أبيه، عن عائشة قالت: مَرِضتُ فَحَمَانِي أَهلي كلَّ شيء حتَّى الماءَ، فعَطِشتُ ليلةً وليس عندي أحدٌ، فدَنَوتُ من قِرْبةٍ معلَّقة فشربتُ منها شَربةً، وقمتُ وأنا صحيحةٌ، فجعلتُ أعرِفُ صِحّةَ تلك الشَّربةِ في جسدي. قال: وكانت عائشة تقول: لا تَحمُوا المريضَ شيئًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں بیمار ہو گئی، میرے گھر والوں نے ہر چیز سے میرا پرہیز کروا دیا، حتی کہ میرا پانی بھی بند کر دیا، ایک رات مجھے بہت سخت پیاس لگی، اس وقت میرے پاس بھی کوئی نہیں تھا، میں لٹکے ہوئے مشکیزے کے قریب ہوئی اور اس سے پانی پی لیا، پانی پی کر میں کھڑی ہوئی تو میں بالکل تندرست تھی، میں یہی سمجھتی ہوں کہ اسی پانی نے میرے جسم کو ٹھیک کر دیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں، اپنے مریض سے کسی چیز کا پرہیز مت کروایا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8456]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8456 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) من قوله: "عن عاصم بن عمر" في الإسناد السابق إلى هنا سقط من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: پچھلی سند میں "عن عاصم بن عمر" کے الفاظ سے لے کر یہاں تک کا حصہ نسخہ (ب) سے ساقط ہے۔
(2) إسناده حسن إن شاء الله من أجل محمد بن مسلم - وهو مَديني قدم البصرة - ومن أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري.
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے، محمد بن مسلم (جو مدینی ہیں اور بصرہ آئے تھے) اور یحییٰ بن ایوب (جو غافقی مصری ہیں) کی وجہ سے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (8795)، وفي "الآداب" (876) من طريق الحسن بن محمد بن إسحاق، عن يوسف بن يعقوب القاضي، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: اسے بیہقی نے "شعب الإیمان" (8795) اور "الآداب" (876) میں حسن بن محمد بن اسحاق کے واسطے سے یوسف بن یعقوب القاضی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔