🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ نَزَلَتِ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ دَنَتِ الزَّلَازِلُ
جب تم خلافت کو ارضِ مقدسہ (شام) میں اترتے دیکھو تو سمجھ لو کہ زلزلے قریب آ گئے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8515
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري، حدثنا أبو قلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن صالح بن أبي عريب، عن كثير بن مُرَّة، عن عوف بن مالك الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ خرج عليهم وأَقْناءُ مَعلَّقةٌ، وقِنوٌ منها حَشَفٌ، ومعه عصًا، فطَعَنَ بالعصا في القِنْو، قال:"لو شاءَ ربُّ هذه الصدقة فتصدَّق بأطيب منها، إنَّ صاحب هذه الصدقةِ يأكلُ الحَشَفَ يومَ القيامة"، ثم أقبَلَ علينا فقال:"أما والله يا أهل المدينة لَتدَعُنَّها مُذلَّلةً أربعين عامًا للعوافي" قلنا: الله ورسوله أعلم، ثم قال رسول الله ﷺ:"أتدرون ما العوافي؟" قالوا: لا، قال:"الطيرُ والسباع" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8310 - صحيح
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جبکہ کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک خوشہ ردی اور سوکھی کھجوروں کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عصا (لاٹھی) تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عصا سے اس خوشے میں ٹھوکا مارا اور فرمایا: اگر اس صدقہ کرنے والے کا رب چاہتا تو وہ اس سے بہتر صدقہ کر دیتا، یقیناً اس صدقہ کا مالک قیامت کے دن ردی کھجوریں ہی کھائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: خبردار! اے اہل مدینہ، اللہ کی قسم، تم اسے (مدینہ کو) چالیس سال تک پرندوں اور درندوں کے لیے یونہی چھوڑ دو گے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ «العوافي» سے کیا مراد ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد پرندے اور درندے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8515]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل شيخ المصنف وصالح بن أبي عريب» [ترقيم الرساله 8515] [ترقيم الشركة 8412] [ترقيم العلميه 8310]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں