المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ نَزَلَتِ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ دَنَتِ الزَّلَازِلُ
جب تم خلافت کو ارضِ مقدسہ (شام) میں اترتے دیکھو تو سمجھ لو کہ زلزلے قریب آ گئے ہیں
حدیث نمبر: 8514
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن ضَمْرة بن حبيب، أنَّ ابن زُغْب الإيادي حدَّثه، قال: نزل (1) علي عبد الله بن حَوَالةَ الأَزْدي، فقال لي وإنَّه لنازل عليَّ في بيتي -: لا أُمّ لك، أما يكفي ابنَ حَوَالة مئةٌ تجري عليه في كلِّ عام؟! ثم قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ حول المدينة على أقدامنا لِنَعْنَمَ، فَرَجَعْنا ولم نَغنَمْ وعَرَفَ الجَهْدَ في وجوهنا، فقام فينا فقال:"اللهم لا تكلهم إليَّ فأضعُفَ عنهم، ولا تَكِلْهم إلى أنفسهم فيعجزوا عنها، ولا تكلهم إلى الناس فيستأثروا عليهم"، ثم قال:"لتَفتَحُنَّ الشام وفارس - أو الروم وفارس - حتى يكون لأحدكم من الإبل كذا وكذا، ومن البقر كذا وكذا، وحتى يُعطى أحدكم مئة دينار فيَسخَطَها"، ثم وَضَعَ يَدَه على رأسي وعلى هامتي، فقال:"يا ابنَ حَوَالة، إذا رأيت الخلافة قد نزلت الأرض المقدَّسة، فقد دَنَتِ الزلازل والبلايا والأمورُ العِظام، للسَّاعةُ يومئذٍ أقرب للناس من يدي هذه من رأسك هذا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وعبد الرحمن بن زُغب الإيادي معروف في تابعي أهل مصر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8309 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وعبد الرحمن بن زُغب الإيادي معروف في تابعي أهل مصر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8309 - صحيح
ابن زغب ایادی فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن حوالہ الازدی کے پاس گیا، انہوں نے مجھے کہا: میں آپ کے پاس آنا ہی چاہتا تھا، تیری ماں نہ رہے، کیا ابن حوالہ کو وہ 100 (دراہم) کافی نہیں ہیں جو ہر سال ان کو جاری کئے جاتے ہیں، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینہ کے اردگرد بھیجا تاکہ ہم کوئی غنیمت لے کر آئیں، ہم بغیر کوئی غنیمت لیے واپس آ گئے، اور ہمارے چہروں سے تھکاوٹ کے آثار واضح دکھائی دے رہے تھے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں یوں دعا مانگی اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ ” اے اللہ! ان کو میرے آسرے پر نہ چھوڑنا کہ میں ان کا بوجھ نہ اٹھا سکوں، اور ان کو ان کے آسرے پر بھی نہ چھوڑنا کہ یہ اس سے بھی عاجز آ جائیں گے، اور ان کو لوگوں کے آسرے پر بھی نہ چھوڑنا کہ لوگ ان پر غالب آ جائیں گے۔ پھر فرمایا: تم ضرور ضرور شام اور فارس کو یا (شاید فرمایا) روم اور فارس کو فتح کر لو گے، حتی کہ تم میں سے ہر ایک کے پاس اتنے اتنے اونٹ اور اتنی اتنی گائیں ہوں گی، حتی کہ کسی کو ایک سو دینار دیئے جائیں گے تو وہ اس (کے کم ہونے پر) ناراض ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت اس پاک سرزمین سے جا چکی ہے، تو سمجھ لینا کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات عنقریب ہونے والے ہیں، اس وقت قیامت لوگوں کے اس سے بھی زیادہ قریب ہو گی جتنا یہ ہاتھ اس سر کے قریب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبدالرحمن بن زغب الایادی معروف تابعی ہیں، اہل مصر میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8514]