🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. قَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - " لَتُتْرَكَنَّ الْمَدِينَةُ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ "
نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ تم مدینہ کو اس کی بہترین حالت میں چھوڑ جاؤ گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8515
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري، حدثنا أبو قلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن صالح بن أبي عريب، عن كثير بن مُرَّة، عن عوف بن مالك الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ خرج عليهم وأَقْناءُ مَعلَّقةٌ، وقِنوٌ منها حَشَفٌ، ومعه عصًا، فطَعَنَ بالعصا في القِنْو، قال:"لو شاءَ ربُّ هذه الصدقة فتصدَّق بأطيب منها، إنَّ صاحب هذه الصدقةِ يأكلُ الحَشَفَ يومَ القيامة"، ثم أقبَلَ علينا فقال:"أما والله يا أهل المدينة لَتدَعُنَّها مُذلَّلةً أربعين عامًا للعوافي" قلنا: الله ورسوله أعلم، ثم قال رسول الله ﷺ:"أتدرون ما العوافي؟" قالوا: لا، قال:"الطيرُ والسباع" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8310 - صحيح
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، کھجوروں کے گچھے، لٹک رہے تھے، ان میں سے ایک گچھہ ردی کھجوروں کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں عصا مبارک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گچھے میں اپنا عصا مارا، اور فرمایا: یہ گچھہ جس نے صدقہ دیا ہے، وہ اگر چاہتا تو اس سے اچھا بھی دے سکتا تھا، اس کا مالک قیامت کے دن ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے مدینے والو! تو اس کو چالیس سال تک عوافی کے لئے کھلا چھوڑ دو گے۔ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں پتا ہے کہ عوافی کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرندوں اور درندوں کو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8515]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8516
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرُو، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يونس بن يوسف بن حِمَاس، عن عمّه، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"لتُترَكَنَّ المدينةُ على خيرِ ما كانت، العَوَافِي تأكلها؛ الطَّيرُ والسِّباعُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يخرجاه. فليعلَمْ طالبُ هذا العلم أنَّ حذيفة بن اليَمَان صاحب سر رسول الله ﷺ، وكان يقول: كان الناسُ يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسأله عن الشرِّ مخافة أن أقع فيه (1) ، وقد يَخفَى على الأعلم مجلسٌ من العلم لبعض (2) عِلَّة ذلك الجنس، وقد خَفِيَ على حذيفة الذي يُخرِج أهل المدينة من المدينة وعَلِمَه غيره (3) . وقد اتفق الشيخان ﵄ على حديث شُعبة، عن عَدِيّ بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، عن حذيفة أنه قال: أخبرني رسول الله ﷺ بما هو كائنٌ إلى يوم القيامة، فما منه شيء إلا وقد سألته عنه، إلا أني لم أسأله ما يُخرِجُ أهل المدينة من المدينة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8311 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مدینہ جس حالت پر پہلے تھا اس سے بھی اچھی حالت میں چھوڑا جائے گا، اس کو پرندے اور درندے کھائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس علم کے طلبگار کو جان لینا چاہئے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدان تھے، آپ فرمایا کرتے تھے: لوگ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تاکہ مجھے اس کا پتا چل جائے اور میں اس میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤں، بعض اوقات علم کی کسی مجلس میں ہونے والی علم کی باتیں بعض وجوہات کی بناء پر رہ بھی جاتی تھیں اور سیدنا حذیفہ کو وہ خبر نہ ملی جس میں یہ تھا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے نکال دیا جائے گا۔ لیکن دوسرے بہت سارے لوگوں کو یہ حدیث معلوم تھی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ سے، انہوں نے عدی بن ثابت سے، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ سب کچھ بتا دیا تھا جو قیامت تک ہونے والا ہے، اور یہ سب کچھ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، صرف ایک بات نہیں پوچھی تھی کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کیوں نکالا جائے گا؟ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8516]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں