🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. ذِكْرُ أَيَّامِ الْهَرَجِ
فتنہ و فساد اور خونریزی (ہرج) کے ایام کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8519
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن إسحاق بن راشد، عن عمرو بن وابصة الأسدي، عن أبيه قال: إني لبِالكُوفة في داري إذ سمعتُ على باب الدار: السلام عليكم، أَلِجُ؟ فقلت: عليك السلام، تَلِجُ، فلمَّا دَخَل إذا هو عبد الله بن مسعود، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، أيَّةُ ساعةٍ هذه للزيارة؟! وذلك في نَحْر الظهيرة، قال: طالَ علي النهارُ فتذكَّرتُ من أتحدث إليه، فجعل يحدثني عن رسول الله ﷺ وأحدثه، قال: ثم أنشأ يحدّثني فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تكون فتنةٌ النائمُ (1) فيها خيرٌ من المضطجع، والمضطجعُ فيها خيرٌ من القاعد، والقاعدُ فيها خيرٌ من القائم، والقائمُ خيرٌ من الماشي، والماشي خيرٌ من الراكب، والراكبُ خيرٌ من المُجْرِي" قلت: يا رسول الله، ومتى ذلك؟ قال:"ذلك أيام الهَرْج حين لا يَأْمَنُ الرجلُ جَليسه" قلت: فبمَ تأمرُني إن أدركتُ ذلك الزمان؟ قال:"اكفُفْ نفسَك ويدَك وادخُلْ دارَك" قال: قلت: يا رسول الله، أرأيتَ إِن دُخِل عليَّ داري؟ قال:"فادخُل بيتك" قال: قلت: أفرأيتَ إن دخل عليَّ بيتي؟ قال:"فادخُلْ مسجدك واصنع هكذا - وقَبَضَ بيمينه على الكوع - وقل: ربي الله، حتى تموت على ذلك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8314 - صحيح
سیدنا عمرو بن وابصہ اسدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں کوفہ میں اپنے گھر میں تھا کہ اچانک گھر کے دروازے پر آواز آئی: السلام علیکم، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ میں نے کہا: وعلیکم السلام، آ جائیے، جب وہ اندر آئے تو دیکھا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! یہ ملاقات کا کون سا وقت ہے؟! اور وہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا، انہوں نے کہا: مجھ پر دن بہت لمبا اور بوجھل ہو رہا تھا تو میں نے سوچا کہ کسی سے جا کر بات چیت کروں، پھر وہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرنے لگے اور میں ان سے، انہوں نے تذکرہ شروع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: عنقریب ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جس میں سونے والا لیٹنے والے سے بہتر ہوگا، لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا، بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا اور سوار اس شخص سے بہتر ہوگا جو (فتنے کی طرف) گھوڑا دوڑا رہا ہو، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہَرْج (قتل و غارت گری اور افراتفری) کے دن ہوں گے جب آدمی اپنے پاس بیٹھنے والے سے بھی محفوظ نہیں ہوگا، میں نے عرض کیا: اگر میں وہ زمانہ پا لوں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے نفس اور اپنے ہاتھ کو (فتنے سے) روکے رکھنا اور اپنے گھر میں مقیم ہو جانا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی (حملہ آور) میرے گھر کے اندر آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے بیت (اندرونی کمرے) میں داخل ہو جانا، میں نے عرض کیا: اگر کوئی وہاں بھی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی سجدہ گاہ (نماز کی جگہ) میں چلے جانا اور اس طرح کرنا - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی کلائی کے جوڑ کو مضبوطی سے پکڑ لیا - اور کہنا: میرا رب اللہ ہے، یہاں تک کہ تمہیں اسی حال میں موت آ جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8519]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8519] [ترقيم الشركة 8416] [ترقيم العلميه 8314]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں