المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. منع الدجال عن دخول المدينة
دجال کا مدینہ منورہ میں داخلے سے روک دیا جانا
حدیث نمبر: 8519
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن إسحاق بن راشد، عن عمرو بن وابصة الأسدي، عن أبيه قال: إني لبِالكُوفة في داري إذ سمعتُ على باب الدار: السلام عليكم، أَلِجُ؟ فقلت: عليك السلام، تَلِجُ، فلمَّا دَخَل إذا هو عبد الله بن مسعود، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، أيَّةُ ساعةٍ هذه للزيارة؟! وذلك في نَحْر الظهيرة، قال: طالَ علي النهارُ فتذكَّرتُ من أتحدث إليه، فجعل يحدثني عن رسول الله ﷺ وأحدثه، قال: ثم أنشأ يحدّثني فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تكون فتنةٌ النائمُ (1) فيها خيرٌ من المضطجع، والمضطجعُ فيها خيرٌ من القاعد، والقاعدُ فيها خيرٌ من القائم، والقائمُ خيرٌ من الماشي، والماشي خيرٌ من الراكب، والراكبُ خيرٌ من المُجْرِي" قلت: يا رسول الله، ومتى ذلك؟ قال:"ذلك أيام الهَرْج حين لا يَأْمَنُ الرجلُ جَليسه" قلت: فبمَ تأمرُني إن أدركتُ ذلك الزمان؟ قال:"اكفُفْ نفسَك ويدَك وادخُلْ دارَك" قال: قلت: يا رسول الله، أرأيتَ إِن دُخِل عليَّ داري؟ قال:"فادخُل بيتك" قال: قلت: أفرأيتَ إن دخل عليَّ بيتي؟ قال:"فادخُلْ مسجدك واصنع هكذا - وقَبَضَ بيمينه على الكوع - وقل: ربي الله، حتى تموت على ذلك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8314 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8314 - صحيح
سیدنا وابصہ اسدی فرماتے ہیں: میں کوفے میں اپنے گھر میں موجود تھا، دروازے پر کسی نے سلام کہہ کر اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اندر آنے کی اجازت دے دی، جب وہ اندر آئے تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ملاقات کے لئے آنے کا یہ کونسا وقت ہے؟ (وہ سخت دوپہر کے وقت تشریف لائے تھے) انہوں نے کہا: دن ہی نہیں گزر رہا تھا، میں نے سوچا کہ میں کس سے بات چیت کروں، جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنائے اور میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سناؤں۔ سیدنا وابصہ فرماتے ہیں: پھر انہوں نے یہ حدیث سنانا شروع کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (قرب قیامت فتنے اٹھیں گے) ان میں سونے والے کی آزمائش لیٹے ہوئے سے زیادہ ہو گی، اور لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، اور بیٹھا ہوا، کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہوا، پیدل چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور پیدل چلنے والا سوار سے بہتر ہو گا، اور سوار کرایہ لینے والے سے بہتر ہو گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ وقت کب آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنگ کا زمانہ ہو گا، یہ اس وقت ہو گا جب دوست بھی قابل اعتماد نہیں ہوں گے، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے حالات میں آپ کا میرے لئے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ کو سنبھالنا اور اپنے گھر میں گھس کر بیٹھ جانا، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ دہشت گرد میرے گھر میں بھی گھس آئے تو میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کے کسی کمرے میں چھپ جانا، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ بھی میرے کمرے میں آنے میں کامیاب ہو جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے جائے نماز پر بیٹھ کر (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر فرمایا) یوں کر لینا، اور ” ربی اللہ، ربی اللہ “ پکارتے رہنا، حتی کہ تمہیں اسی حالت میں موت آ جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8519]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8519 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: القائم، والمثبت من (ك).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "القائم" ہو گیا ہے، جبکہ ہم نے نسخہ (ک) سے درست لفظ ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده حسن. وهو مكرر (5483).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ اور یہ حدیث نمبر (5483) پر مکرر ہے۔