🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. مَنْعُ الدَّجَّالِ عَنْ دُخُولِ الْمَدِينَةِ
دجال کا مدینہ منورہ میں داخلے سے روک دیا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8520
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا كَهمَس بن الحسن، عن عبد الله بن شقيق العُقَيلي، عن مِحجَن بن الأدرَع قال: بَعَثَني رسول الله ﷺ لحاجةٍ ثم عارَضَني في بعض طرق المدينة، ثم صَعَّدَ على أُحدٍ وصَعَدتُ معه، فأقبل بوجهه نحو المدينة فقال لها قولًا، ثم قال:"وَيلُ أمِّكِ. أو وَيحُ أمِّها - قريةً يَدَعُها أهلُها أَيْنعَ ما تكون، يأكلها عافية (1) الطيرِ والسِّباع - يأكل ثمرها - فلا يدخلُها الدَّجالُ إن شاء الله، كلما أراد دخولها تلقاه بكل نَقْبٍ من نقابِها مَلَكٌ مُصلِتٌ يَمنعُه عنها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8315 - صحيح
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مدینہ کے کسی راستے میں ملے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احد (پہاڑ) پر چڑھے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چڑھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا اور اس (شہر) کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا، پھر فرمایا: تیری ماں ہلاک ہو (یا اس کی ماں ہلاک ہو) - یہ ایسی بستی ہے کہ اس کے رہنے والے اسے اس وقت (ویران) چھوڑ دیں گے جب وہ اپنی پوری شادابی اور پھلوں کے پکنے کے عروج پر ہوگی، پرندے اور درندے اس کے پھل کھائیں گے - اور اس میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا، ان شاء اللہ، وہ جب بھی اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا تو اس کے ہر راستے پر ننگی تلوار لیے ہوئے ایک فرشتہ اس کا سامنا کرے گا جو اسے اس سے روک دے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8520]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، رجاله ثقات إلّا أنه منقطع بين عبد الله بن شقيق ومحجن، بينهما فيه رجاء بن أبي رجاء الباهلي، ورجاء هذا لم يرو عنه غير عبد الله بن شقيق، ولم يؤثر توثيقه عن غير العجلي وابن حبان» [ترقيم الرساله 8520] [ترقيم الشركة 8417] [ترقيم العلميه 8315]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8521
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد النَّحْوي ببغداد، حدثنا أحمد بن زياد بن مهران، حدثنا شاذان الأسود بن عامر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عَزْرة، عن الحسن العُرَني، عن يحيى بن الجزار، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي بن كعب أنه قال في هذه الآية: ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِن الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [السجدة:21] قال: مصيباتُ الدنيا: الرُّومُ، والبَطْشة، والدخان؛ قال: ثم انقطع شيئًا فقال: هو الدجال (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. سألت أبا عليّ الحافظ عن عَزّرة هذا، فقال: عَزّرة بن يحيى، وقد روى شعبةُ عن قتادة عن عَزّرة بن تميم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8316 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِن الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [سورة السجدة: 21] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے کہا: (عذابِ ادنیٰ سے مراد) دنیا کی مصیبتیں ہیں: اہل روم (کے ساتھ جنگ)، سخت پکڑ (بَطْشہ) اور دھواں؛ (راوی نے) کہا: پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے اور فرمایا: وہ (عذابِ اکبر) دجال ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے ابوعلی الحافظ سے اس (سند میں موجود) «عزرة» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ «عزرة بن يحيى» ہیں، جبکہ شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے «عزرة بن تميم» سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8521]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8521] [ترقيم الشركة 8418] [ترقيم العلميه 8316]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں