🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. لَا تَزَالُ الْأُمَّةُ عَلَى شَرِيعَةٍ مَا لَمْ تَظْهَرْ فِيهِمْ ثَلَاثٌ
یہ امت اس وقت تک شریعت پر قائم رہے گی جب تک ان میں تین چیزیں ظاہر نہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8576
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زَبَّان (3) بن فائد، عن سهل بن معاذ بن أنس، عن أبيه، أن رسول الله ﷺ قال:"لا تزال الأمة على شريعة ما لم تَظهَرْ فيهم ثلاث: ما لم يُقبَضُ فيهم العلم، ويَكثُرُ فيهم وَلَدُ الخَبَثْ، ويَظْهَرْ فيهم السَّقَّارون" قالوا: وما السَّقَّارون يا رسول الله؟ قال:"بَشَرٌ يكونون في آخر الزمان، تكون تحيَّتهم بينهم إذا تَلاقَوُا التَّلاعُنَ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8371 - منكر
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امت اس وقت تک (درست) شریعت پر قائم رہے گی جب تک ان میں تین چیزیں ظاہر نہ ہو جائیں: جب تک ان میں سے علم اٹھا نہ لیا جائے، جب تک ان میں بدکاری کی اولاد (حرام زادے) کثرت سے نہ ہو جائیں، اور جب تک ان میں «السَّقَّارون» ظاہر نہ ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ «السَّقَّارون» کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آخری زمانے میں ہونے والے وہ لوگ ہوں گے جن کی آپس میں ملاقات کے وقت ان کی باہمی تحیہ (سلام) ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا ہوگا (یعنی سلام کی بجائے لعنت بھیجیں گے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8576]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف زَبّان بن فائد، وقال الذهبي في "تلخيصه": منكر» [ترقيم الرساله 8576] [ترقيم الشركة 8473] [ترقيم العلميه 8371]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف زَبّان بن فائد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8577
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن سعيد بن أبي بردة، عن أبيه، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"أمتي أمةٌ مرحومةٌ، لا عذابَ عليها في الآخرة، جَعَلَ الله عذابها في الدنيا القتلَ والزلازلَ والفتنَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8372 - صحيح
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری یہ امت ایک ایسی امت ہے جس پر (خاص) رحم کیا گیا ہے، اس پر آخرت میں کوئی عذاب نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے اس کا عذاب دنیا ہی میں قتل و غارت، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں رکھ دیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8577]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف لاضطرابه كما تقدم بيانه برقم (157)» [ترقيم الرساله 8577] [ترقيم الشركة 8474] [ترقيم العلميه 8372]

الحكم على الحديث: حديث ضعيف لاضطرابه كما تقدم بيانه برقم (157)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں