المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. رُؤْيَا خَارِجَةَ بْنِ الْحُسَيْنِ فِي الْفِتْنَةِ
فتنے کے زمانے میں خارجہ بن حسین کے خواب کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8599
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرقاشي، حدثنا أزهر بن سعد، حدثنا أبو عون، عن عمرو بن سعيد، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جرير، عن حَيَّة بنت أبي حيَّة قالت: دخل علي رجلٌ بالظَّهيرة قلتُ: يا عبد الله، ما حاجتُك؟ قال: أقبلتُ وصاحبٌ لي في بُغاءٍ إبل لنا، فدخلتُ أستظلُّ بالظِّل وأشربُ من الشراب، فقمت إلى ضَيْحةٍ حامضة ولُبَينةٍ حامضة فسقيتُه، وتوسَّمتُ فقلت: يا عبد الله، من أنت؟ قال: أنا أبو بكرٍ (1) صاحب رسول الله ﷺ الذي سمعت به، قالت: فذكرتُ خَثْعمًا وغزو بعضنا بعضًا في الجاهلية، وما جاءَ اللهُ من الأُلْفة وأطنابُ الفساطيطِ هكذا - وشبك بين أصابعه - قالت: فقلت: يا عبد الله، حتى متى أمرُ الناس هكذا؟ قال: ما استقامت الأئمّةُ، قالت: قلت: وما الأئمّةُ؟ قال: ألم تَرَيْ إلى الحِوَى يكون فيها السيِّدُ يَتَّبِعونه ويُطيعونه، ما استقام أولئك (2) .
هذا حديث صحيح، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8393 - صحيح
هذا حديث صحيح، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8393 - صحيح
حیہ بنت ابی حیہ بیان کرتی ہیں، دوپہر کے وقت ایک آدمی میرے پاس آیا، میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! تجھے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: میں اور میرا ساتھی، ہم اپنے اونٹ ڈھونڈنے نکلے ہیں، میں کچھ دیر سایہ میں بیٹھنے اور پانی پینے کے لئے آیا ہوں، میں نے دودھ کی بنی ہوئی کچی لسی اور لذیذ دودھ ان کو پلایا پھر میں نے پوچھا: اے اللہ کے بندے! تم کون ہو؟ اس نے کہا: تم نے جس رسول کے بارے میں سن رکھا ہے، میں اس کا ساتھی ابوبکر ہوں، آپ فرماتے: پھر میں نے زمانہ جاہلیت کی آپس کی جنگوں اور خاک و خون کے واقعات کا تذکرہ کیا، اور پھر اللہ تعالیٰ نے جو آپس میں محبت ڈال دی ہے اس کا ذکر کیا اور خیمے گاڑنے کے واقعات دہرائے، پھر انہوں نے اس طرح اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں، سیدنا حیہ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! لوگ اس طرح کب رہیں گے؟ انہوں نے فرمایا: جب تک ائمہ میں استقامت رہے گی، آپ فرماتی ہیں: میں نے کہا: ائمہ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم گھاس پھوس کے ان مکانوں کو نہیں دیکھتے، ان میں ان کا سردار بھی ہوتا ہے اور جب تک ان کا امام قائم ہوتا ہے وہ اسی کی پیروی کرتے ہیں اور اسی کے پیچھے چلتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8599]
حدیث نمبر: 8600
أخبرنا الحسن بن محمد بن حليم (1) بن إبراهيم بن ميمون الصائغ، أخبرنا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هبيرة، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا محمد بن جُحَادة، عن نُعيم بن أبي هند، عن أبي حازم، عن الحسين بن خارجة قال: لما كانت الفتنةُ الأولى أشكَلَت علي فقلت: اللهم أرني أمرًا من أمر الحق أُمسك به، قال: فأُرِيتُ الدنيا والآخرة وبينهما حائط غيرُ طويل، وإذا أنا بجائزٍ فقلت: لو تشبَّثتُ بهذا الجائز، لعلِّي أهبِطُ إلى قتلى أشجع ليُخبروني، قال: فهَبَطتُ بأرضٍ ذاتِ شجر، وإذا بنفرٍ جلوسٍ فقلت: أنتم الشهداءُ؟ قالوا: لا، نحن الملائكةُ، قلت: فأين الشهداء؟ قالوا: تقدَّم إلى الدرجات العلى، إلى محمد ﷺ، فتقدَّمتُ، فإذا أنا بدرجةٍ الله أعلمُ ما هي في السَّعَةِ والحُسْن، فإذا أنا بمحمد ﷺ وإبراهيم ﷺ، وهو يقول لإبراهيم: استغفِرْ لأمتي، فقال له إبراهيم: إنك لا تدري ما أحدَثُوا بعدك، أراقُوا دماءهم، وقتلوا إمامهم، ألا فعلوا كما فعل خَلِيلي سعدٌ، قلت: أراني قد أُرِيتُ، أذهب إلى سعدٍ فأنظرُ مع من هو فأكون معه، فأتيتُه فقَصَصْتُ عليه الرؤيا، فما أكثر بها فرحًا، وقال: قد شَقِي من لم يكن له إبراهيم خليلًا، قلت: في أيِّ الطائفتين أنت؟ قال: لستُ مع واحدٍ منهما، قلت: فكيف تأمرني؟ قال: ألك ماشيةٌ؟ قلت: لا، قال: فاشتر ماشيةً واعتزل فيها حتى تَنجِلي (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8394 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8394 - صحيح
حسین بن خارجہ بیان کرتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ ہوا تو مجھ پر بہت مشکل بنی، میں نے دعا مانگی ” یا اللہ! مجھے حق راستہ دکھا دے، تاکہ میں اس پر مضبوطی سے گامزن ہو جاؤں، آپ فرماتے ہیں: مجھے دنیا اور آخرت دکھائی گئی، ان دونوں کے درمیان ایک دیوار تھی، یہ دیوار کوئی زیادہ نہیں تھی، وہاں مجھے ایک سیڑھی دکھائی دی۔ میں نے سوچا: اگر میں اس سیڑھی کے ذریعے اوپر چڑھ جاؤں تو اشجع کے مقتولوں کے پاس پہنچ سکتا ہوں اور ان کے بارے میں کوئی خبر لی جا سکتی ہے، چنانچہ میں ایک درختوں والی زمین پر پہنچا، میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے پوچھا: کیا تم شہداء ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم فرشتے ہیں، میں نے پوچھا: تو شہداء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: تم ان درجات کی طرف چلے جاؤ، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چڑھ رہے ہیں، میں ادھر چلا گیا، میں ایک درجے میں پہنچا، اس کے حسن اور اس کی وسعت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، وہاں پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام موجود تھے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے کہہ رہے تھے: آپ میری امت کے لئے بخشش کی دعا فرما دیجئے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کو معلوم نہیں، انہوں نے آپ کے بعد کون کون سے کارنامے کئے ہیں، انہوں نے خونریزیاں کیں، اپنے اماموں کو شہید کیا، انہوں نے میرے دوست سعد کی طرح کیوں نہیں کیا؟ (میری آنکھ کھل گئی) میں نے سوچا کہ مجھے حق دکھا دیا گیا ہے، اب میں سعد کے پاس جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ وہ کون ہے، پھر اس کے ساتھ ہو جاؤں گا، پھر میں سعد کے پاس گیا، ان کو اپنا خواب سنایا، خواب سن کر وہ بہت خوش ہوئے، اور فرمایا: وہ شخص بدبخت ہے، ابراہیم علیہ السلام جس کے دوست نہیں ہیں، میں نے پوچھا: آپ کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں کسی بھی جماعت میں سے نہیں ہوں، میں نے کہا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تیرے پاس کوئی سواری ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ایک سواری خرید لے، اس پر سوار ہو کر کہیں دور چلا جا، جب تک کہ یہ فتنہ ختم نہیں ہو جاتا (تب تک واپس نہ آنا)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8600]