🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. التَّفَقُّهُ لِغَيْرِ الدِّينِ مِنْ عَلَامَاتِ الْفِتَنِ
دین کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے علمِ فقہ حاصل کرنا فتنوں کی علامت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8596
فحدثناه (2) أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل وحجاج بن منهال قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا قتادة، عن مطرف، عن عِمران بن حصين، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا تزالُ طائفةٌ من أمتي يقاتلون على الحقِّ، ظاهرين على من ناوَأَهم، حتى يقاتل آخرهم الدجال" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8391 - على شرط مسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ہمیشہ ایک ایسا گروہ رہے گا جو حق پر جہاد کرتا رہے گا اور اپنے دشمنوں پر غالب رہے گا، حتی کہ اس گروہ کی آخری جماعت دجال سے لڑے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8596]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8597
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أبان، عن سُليم بن قيس الحَنظلي قال: خَطَبَنا عمر بن الخطاب فقال: إِنَّ أخوف ما أخافُ عليكم بعدي أن يُؤخذ الرجل منكم البرئُ فيُؤْشَرَ كما تُؤشَرُ الجَزورُ، ويُشاط لحمه كما يشاط لحمها، ويقال: عاصٍ، وليس بعاصٍ. قال: فقال علي بن أبي طالب وهو تحت المنبر: ومتى ذلك يا أمير المؤمنين ولمَّا تشتدَّ البَلِيَّةُ، وتظهرِ الحَمِيَّةُ، وتُسْبَ الذُّرِّية، وتدُقَّهم الفتنُ كما تدقُّ الرَّحَا بَقْلَها، وكما تدقُّ النارُ الحطب، قال: ومتى ذلك يا عليُّ؟ قال: إذا تفقه المتفقه لغير الدين، وتعلَّم المتعلِّم لغير العمل، والتمست الدنيا بعمل الآخرة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8392 - أبان قال أحمد تركوا حديثه
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں ارشاد فرمایا: میں اپنے بعد سب سے زیادہ جس چیز کی فکر کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ کسی بے قصور شخص کو پکڑ لیا جائے گا اور اس کو اونٹ کی طرح ذبح کیا جائے گا۔ اور اونٹ کی طرح اس کا گوشت پکایا جائے گا اس کو مجرم قرار دیا جائے گا حالانکہ وہ مجرم نہیں ہو گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خطبہ سن رہے تھے، آپ نے فرمایا: اے امیرالمومنین! یہ حالات کب ہوں گے؟ اور آزمائشیں سخت کیوں ہوں گی؟ غیرت غالب کیوں ہو گی؟ اور بچوں کو قیدی کیوں بنایا جائے گا؟ اور فتنے ان کو یوں پیسں کر رکھ دیں گے جیسے چکی اپنے نچلے پاٹ کو کچل دیتی ہے۔ اور جیسے آگ لکڑیوں کو بھسم کر دیتی ہے۔ امیرالمومنین نے کہا: اے علی! یہ واقعات کب ہوں گے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب علمائے دین کے تحصیل علم کا مقصد دین نہیں ہو گا، اور طالب علم کے تحصیل علم کا مقصد عمل نہیں ہو گا، اور آخرت والے عمل کے ذریعے دنیا کمائی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8597]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8598
قال أبان: وحدثنا الحسن، عن أبي موسى الأشعري قال: قال النبي ﷺ:"أخافُ عليكم الهَرْجَ" قالوا: وما الهرج يا رسول الله؟ قال:"القتل" قالوا: وأكثر مما يُقتل اليوم؟ إنا لنقتلُ في اليوم من المشركين كذا وكذا، فقال النبي ﷺ:"ليس قتل المشركين، ولكن قتل بعضكم بعضًا" قالوا: وفينا كتاب الله؟ قال:"وفيكم كتاب الله ﷿" قالوا: ومعنا عقولُنا؟ قال:"إنه مُنتزَع عقول عامة ذلك الزمان، وخَلَفَ لها هَبَاءٌ من الناس، يحسبون أنهم على شيءٍ وليسوا على شيء" (2) .
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے تم پر ہرج کا فکر ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم اتنے اتنے مشرکوں کو روزانہ قتل کرتے ہیں، کیا اس وقت اس سے بھی زیادہ قتل ہو گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مشرکین کے قتل کی بات نہیں کر رہا، تم خود ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کتاب اللہ موجود ہے، (پھر ہم ایک دوسرے کو قتل کیوں کریں گے؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم میں کتاب اللہ موجود ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اور ہمارے اندر عقل بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس زمانے میں عام لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی، اور ناسمجھ لوگ باقی رہ جائیں گے، وہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھیں گے لیکن حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8598]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں