المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
60. تَقَلُّبَاتُ النُّبُوَّةِ وَالْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ
نبوءت، خلافت اور امارت کے ادوار کی تبدیلیوں کا بیان
حدیث نمبر: 8666
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا أبو عَوْن، عن محمد بن سِيرِين قال: لما كان يومُ الجَرَعة قال جُندُب: والله ليُهراقَنَّ دماءٌ، فقال رجل: كلا والله، قال: قلت: بلى والله، قال: كلّا والله، إنه لحديثُ رسول الله ﷺ حَدَّثَنِيهِ، قال: قلت: أراكَ اليومَ جليسَ سَوءٍ، تسمعُني أحدِّثُ وقد سمعتَه من رسول الله ﷺ فلا تنهاني؟! فقال: ما لك وما للغضبِ! قال: فأَقبلتُ أسألُه، فإذا هو حُذَيفةُ بن اليَمَان (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8458 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8458 - على شرط البخاري ومسلم
محمد بن سیرین کہتے ہیں: جرعہ (کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سعید بن العاص کو وہاں پر والی مقرر کیا تو اہل کوفہ نے مقام جرعہ میں آ کر اس کے خلاف احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ان کا والی مقرر کیا جائے) کے موقعہ پر جندب نے کہا: اللہ کی قسم، خون ضرور بہیں گے، ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں آج تمہیں برا دوست سمجھتا ہوں، تم تو سن رہے ہو کہ میں یہ بات کر رہا ہوں، (میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ) میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، لہذا وہ مجھے منع نہ فرمائے، انہوں نے کہا: تمہیں غصہ کیوں آ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: میں اس کے بارے میں پوچھنے لگ گیا، پتا چلا کہ وہ تو سیدنا حذیفہ بن یمان ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8666]