🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. حِكَايَةُ امْرَأَةٍ شُلَّتْ يَدُهَا فِي الْمَنَامِ
ایک ایسی عورت کا قصہ جس کا ہاتھ خواب میں شل (بیکار) ہو گیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8661
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن صالح، عن ابن شهاب قال: قال أبو إدريس عائذُ الله الخَوْلاني: سمعت حذيفة يقول: والله إني لأعلمُ الناس بكل فتنةٍ هي كائنةٌ فيما بيني وبين الساعة، وما ذاك أن يكون حدَّثني رسولُ الله ﷺ بها من شيءٍ لم يُحدث بها غيري، ولكنَّ رسول الله ﷺ قال - وهو يحدِّث مجلسًا أنا فيه عن الفتن - وهو يَعُدُّ الفتن:"فيهنَّ ثلاثٌ لا يَذَرْنَ شيئًا، منهنَّ كرياح الصيف، منها صغار ومنها كبار"، فذهب أولئك الرَّهْطُ كلُّهم غيري (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8454 - على شرط البخاري ومسلم
عائذ اللہ خولانی سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! آج سے لے کر قیامت تک آنے والے فتنوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم میں رکھتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں مجھے بتاتے تھے وہ کسی اور کو نہیں بتاتے تھے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں فتنوں کے بارے میں گفتگو فرمائی، اس مجلس میں، میں بھی موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے فتنے شمار کروائے، اور ان میں کوئی بھی چچوڑ نہیں، مثلا گرم ہوا کا چلنا، چھوٹے فتنوں کا بھی ذکر کیا اور بڑے فتنوں کا بھی۔ اس مجلس میں جتنے بھی لوگ موجود تھے، وہ سب فوت ہو گئے ہیں، صرف میں زندہ ہوں۔ (اس لئے میں نے کہا ہے کہ فتنوں کے بارے میں آج مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8661]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8662
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: إني لأعلمُ فتنةً يوشكُ أن يكون الذي قبلها معها كنَفْجةِ أرنبٍ، وإني لأعلمُ المَخرَجَ منها، قلنا: وما المخرجُ منها؟ قال: أُمسِكُ يدي حتى يجيء من يقتلُني (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8455 - خبر أبي هريرة على شرط البخاري ومسلم وأما المنام فسنده واه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس فتنے کو جانتا ہوں، ہو سکتا ہے کہ پہلے کے بعد دوسرا فتنہ اتنی تیزی سے آئے جیسے خرگوش تیزی سے نکل جاتا ہے، اور میں اس سے بچنے کا طریقہ بھی جانتا ہوں۔ ہم نے کہا: جی بتائیے کہ اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: میں اپنے ہاتھ کو روک کر رکھوں گا حتی کہ میرے پاس میرا قاتل آ جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8662]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8663
قال معمر: وحدَّثني شيخٌ لنا: أنَّ امرأة جاءت إلى بعض أزواج النبي ﷺ فقالت لها: ادْعِي الله أن يُطلِقَ لي يدي، قالت: وما شأنُ يَدِكِ؟ قالت: كان لي أبوان، فكان أبي كثير المال كثير المعروف كثيرَ الفضل كثيرَ الصدقة، ولم يكن عند أمِّي من ذلك شيءٌ، لم أرَها تصدَّقَت بشيء قطُّ، غيرَ أَنَّا نَحَرْنا بقرةً فأعطت مسكينًا شَحْمةً في يده، وألبسته خِرقةً، فماتت أمِّي ومات أَبي، فرأيتُ أَبي على نهرٍ يسقي الناسَ، فقلت: يا أبتاه، هل رأيتَ أمي؟ قال: لا، أوماتت؟ قلت: بلى، قال: فذهبتُ ألتمِسُها فوجدتُها قائمةً عُرْيانةً ليس عليها إلَّا تلك الخِرْقةُ، وتلك الشَّحمةُ في يدها وهي تضرِبُ بها في يدها الأخرى ثم تَعَضُّ أثرها، وتقول: واعَطَشاه، فقلت: يا أُمَّهْ، إلا أَسقيك؟ قالت: بلى، فذهبتُ إلى أبي فذكرتُ ذلك له وأخذتُ من عنده إناءً فسقيتُها فيه، فنَبِهَ بي بعضُ مَن كان عندها قائمًا فقال: مَن سقاها أشَلَّ الله يدَه؛ فاستيقظتُ وقد شَلَّت يَدِي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2) ، ولم يُخرجاه.
معمر کہتے ہیں: ہمارے ایک استاذ نے مجھے بتایا کہ ایک خاتون، ایک ام المومنین رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا: آپ میرے لئے دعا فرمائیں کہ میرا ہاتھ کھل جائے، ام المومنین نے کہا: تیرے ہاتھ کو کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا: میرے ماں باپ تھے، میرا باپ بہت مالدار تھا، مشہور و معروف تھا، بہت فضل والا تھا، بہت صدقہ کرتا تھا، اور میری والدہ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے کبھی صدقہ کیا ہو، ایک مرتبہ ہم نے گائے ذبح کی تھی، اس میں سے انہوں نے تھوڑی سی چربی اپنے ہاتھ سے صدقہ کی تھی، اور اس کو کپڑوں کا ایک جوڑا بھی دیا۔ پھر میری والدہ فوت ہو گئی، اور میرے والد بھی فوت ہو گئے، میں نے اپنے والد کو دیکھا، وہ ایک نہر پر ہیں اور لوگوں کو پانی پلا رہے ہیں، میں نے پوچھا: ابا جان! کیا آپ نے میری والدہ کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیا وہ فوت ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ وہ خاتون کہتی ہیں: میں اس کو ڈھونڈنے نکلی، میں نے اس کو ایک جگہ کھڑی دیکھا، وہ وہی کپڑے پہنے ہوئے تھی جو اس نے صدقہ میں دیے تھے، اور اس کے ہاتھ میں وہی چربی کا ٹکڑا تھا، وہ اس کو اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مار رہی تھی، پھر اس کے اثر کو چاٹ لیتی تھی، اور کہتی تھی، ہائے پیاس، ہائے پیاس، میں نے کہا: امی جان، کیا میں آپ کو پانی پلاؤں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں اپنے باپ کے پاس گئی اور اپنی والدہ کا حال ان کو سنایا، اور ان سے ایک پیالہ بھر کر لائی اور اپنی والدہ کو پلایا، میری والدہ کے پاس کوئی شخص کھڑا ہوا تھا، وہ میرے اس عمل پر مطلع ہوا تو اس نے کہا: اس کو پانی کس نے پلایا ہے؟ اللہ اس کے ہاتھ شل کر دے، جب میں اٹھی تو میرے ہاتھ شل ہو چکے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8663]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8664
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وحدَّثني أبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضر الأزدي، حدثنا جدِّي معاويةُ بن عمرو، حدثنا زائدةُ، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن حُذيفة قال: قام فينا رسول الله ﷺ مقامًا خَبَّرَنا بما نكون فيه إلى قيام الساعة، عَقَلَه فينا من عَقَلَه، ونَسِيَه من نسيه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (4) . وقد رواه أبو عوانة وأبانُ بن يزيد العطّار عن عاصم، وعاصمُ بن أبي النَّجُود إمامٌ متَّفَق على إمامته في القرآن وسائر العلوم، إذا انفرد بالحديث لَزِمَنا قبولُه. أما حديث أبي عوانة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8456 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور قیامت تک ہونے والے تمام حالات بیان کر دیئے، جو یاد رکھ سکا اس نے یاد رکھ لیا اور جو یاد نہ رکھ سکا وہ بھول گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو ابوعوانہ، اور ابان بن یزید عطار نے عاصم سے روایت کیا ہے، اور عاصم بن ابی نجود امام ہیں اور قرآن کے معاملہ میں اور دیگر تمام علوم میں ان کی امامت مسلم ہے۔ جب یہ کسی حدیث میں منفرد ہوں، تو اس کو قبول کرنا ہمارے ذمہ لازم ہے۔ سیدنا ابوعوانہ کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8664]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8665
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب ومحمد بن صالح بن هانئ قالا: حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا أبو عَوَانة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن حذيفة قال: قام رسول الله ﷺ مقامًا أخبرنا بما يكون بعدَ مَقامِه ذلك إلى أن تقوم الساعة، عَقَلَه من عقله، ونَسِيَه من نسيه (5) . وأما حديث أبان بن يزيد العطّار:
ابوعوانہ نے عاصم سے، انہوں نے زر سے، انہوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ پر کھڑے ہوئے، آپ نے قیامت تک ہونے والی ہر چیز کا ذکر کیا۔ جو یاد رکھ سکا اس نے یاد رکھ لیا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8665]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8665M
فحدَّثَناه الحسن بن يعقوب العَدل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبانُ بن يزيد العطّار، حدثنا عاصم، عن زِرٍّ، عن حُذيفة قال: قام رسول الله ﷺ مَقامًا (1) فلم يَدَعْ شيئًا إلّا ذكره إلى أن تقوم الساعة، عَقَلَه من عقلَه، ونَسِيَه من نسيه (2) .
8665 م - سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقام پر (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک پیش آنے والی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کا ذکر نہ فرما دیا ہو۔ جس نے اسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا، اور جو اسے بھول گیا سو بھول گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8665M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں