🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. هَلَاكُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ دُودٍ يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ
یاجوج و ماجوج کی ہلاکت ان کی گردنوں میں پیدا ہونے والے کیڑوں کے ذریعے ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8714
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونسُ بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قَتادة الأنصاري ثم الظَّفَري، عن محمود بن لَبِيد - أخو بني عبدِ الأشهل - عن أبي سعيد الخُدْري قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تُفتَحُ يأجوجُ ومأجوجُ يَخرُجون على الناس كما قال الله تعالى: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [الأنبياء: 96] ، فيَعِيثُون في الأرض، ويَنحازُ المسلمون إلى مَدائنِهم وحُصونِهم، ويَضُمُّون إليهم مواشيَهم، ويشربون مياهَ الأرض، حتى إنَّ بعضهم لَيَمرُّ بالنهر فيشربون ما فيه حتى يتركوه يابسًا، حتى إن مَن بعدَهم لَيَمُرُّ بذلك النهر فيقول: لقد كان هاهنا ماءٌ مرّةً، حتى إذا لم يَبْقَ من الناس أحدٌ إِلَّا أَخَذ في حصن أو مدينةٍ قال قائلهم: هؤلاءِ أهلُ الأرض قد فَرَغْنا منهم، بقيَ أهلُ السماء، قال: ثم يَهُزُّ أحدُهم حَرْبتَه ثم يَرمي بها إلى السماء، فتَرجِعُ مُخضَّبةً دمًا للبلاءِ والفِتنة، فبينما هم على ذلك بَعَثَ الله عليهم دُودًا في أعناقهم كالنَّغَفِ، فيخرجُ في أعناقهم، فيُصبِحون موتى لا يُسْمَعُ لهم حِسٌّ، فيقول المسلمون: ألا رجلٌ يَشْري لنا بنفسه فينظرُ ما فعل هذا العدوُّ، قال: ثم يتجرَّدُ رجلٌ منهم لذلك مُحتسِبًا بنفسه، فرابَطَها (3) على أنه مقتول، فيَنزِلُ فيَجدُهم موتى بعضُهم على بعض، فينادي: يا معشرَ المسلمين، أَبشِروا، فإنَّ الله قد كَفَاكم عدوَّكم، فيخرجون من مدائنِهم وحصونِهم، ويُسرِّحُون مواشيَهم، فما يكون لها رِعْيٌ إلَّا لحومُهم، فتَشكَرُ عنه كأحسنِ ما شَكِرَت عن شيءٍ من النَّبات أصابَتْه قطُّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8504 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ لوگوں پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 96] وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے۔ پس وہ زمین میں فساد مچائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزین ہو جائیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی اپنے ساتھ (انہی قلعوں میں) جمع کر لیں گے، وہ زمین کا سارا پانی پی جائیں گے، یہاں تک کہ جب ان کا کوئی گروہ کسی نہر سے گزرے گا تو اس کا سارا پانی پی کر اسے بالکل خشک چھوڑ دیں گے، پھر ان کے بعد آنے والا گروہ وہاں سے گزرے گا تو کہے گا: یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا، یہاں تک کہ جب قلعوں یا شہروں میں محصور لوگوں کے سوا (زمین پر) کوئی باقی نہ رہے گا تو ان کا کہنے والا کہے گا: یہ زمین والے تو ختم ہو گئے جن سے ہم فارغ ہو چکے، اب آسمان والے باقی ہیں، پھر ان میں سے کوئی اپنا نیزہ لہرائے گا اور اسے آسمان کی طرف پھینکے گا، تو وہ آزمائش اور فتنے کے طور پر خون آلود ہو کر واپس آئے گا، وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں «النَّغَفِ» کیڑے پیدا کر دے گا جو ان کی گردنوں سے نکلیں گے، پس وہ اس حال میں صبح کریں گے کہ سب کے سب مردہ پڑے ہوں گے اور ان کی کوئی آہٹ سنائی نہ دے گی، تب مسلمان کہیں گے: کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اپنی جان اللہ کے لیے وقف کر کے (نیچے اترے اور) دیکھے کہ اس دشمن کا کیا انجام ہوا؟ پھر ان میں سے ایک شخص اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اور خود کو قتل کے لیے تیار کر کے نکلے گا، وہ نیچے اترے گا تو انہیں ایک دوسرے کے اوپر مردہ پڑا ہوا پائے گا، وہ پکار کر کہے گا: اے مسلمانو! تمہیں خوشخبری ہو، اللہ نے تمہارے دشمن کے مقابلے میں تمہاری کفایت فرمائی ہے، تب وہ اپنے شہروں اور قلعوں سے باہر نکل آئیں گے اور اپنے مویشی چرنے کے لیے چھوڑ دیں گے، تو ان مویشیوں کے لیے ان (یاجوج ماجوج) کے گوشت کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا، پس وہ اسے کھا کر اتنے موٹے ہو جائیں گے کہ کبھی کسی بہترین نباتات کو کھا کر بھی اتنے موٹے نہیں ہوئے ہوں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8714]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8714] [ترقيم الشركة 8607] [ترقيم العلميه 8504]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8715
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا المسيَّب بن زُهير، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق قال: سمعت وهبَ بن جابر يحدِّث عن عبد الله بن عمرو قال: يأجوجُ ومأجوجُ يَمُرُّ أولُهم بنهرٍ مثل دِجْلةَ ويمرُّ آخرُهم فيقول: قد كان في هذا النهر مرَّةً ماءٌ، ولا يموتُ رجلٌ إِلَّا تركَ ألفًا من ذرِّيته فصاعدًا، ومِن بعدِهم ثلاثةُ أُمم: تاديس، وتاويل، وتاسك أو متسك (2) ؛ شكَّ شعبةُ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8505 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یاجوج اور ماجوج (کی کثرت کا یہ عالم ہوگا کہ) ان کا پہلا گروہ دجلہ جیسے بڑے دریا سے گزرے گا (اور اس کا سارا پانی پی جائے گا)، جب ان کا آخری گروہ وہاں سے گزرے گا تو کہے گا: کبھی اس دریا میں پانی ہوا کرتا تھا، اور ان میں سے کوئی آدمی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک وہ اپنی نسل سے ایک ہزار یا اس سے زائد افراد نہ چھوڑ جائے، اور ان کے بعد مزید تین امتیں ہوں گی: تادیس، تاویل اور تاسک یا متسک (راویِ حدیث شعبہ کو اس نام میں شک ہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8715]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله، ووهب بن جابر وإن لم يرو عنه غير أبي إسحاق» [ترقيم الرساله 8715] [ترقيم الشركة 8608] [ترقيم العلميه 8505]

الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں